منگل , 15 جون 2021

واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی پر صارفین کا اظہارِ برہمی

رواں ہفتے کے آغاز سے واٹس ایپ نے اپنی پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی کا آغاز کیا ہے اور ایپلیکشن کے استعمال کے لیے شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی میں تبدیلیاں لاتے ہوئے ایپ کے اندر نوٹی فکیشنز بھیجنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔

واٹس ایپ کے نئے ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کا نفاذ 8 فروری 2021 سے ہوگا اور صارفین کو انہیں لازمی قبول کرنا ہوگا، دوسری صورت میں ان کے اکاؤنٹس ڈیلیٹ کردیے جائیں گے۔

کمپنی کی جانب سے بھیجے جانے والے نوٹیفکیشن میں لکھا گیا تھا کہ واٹس ایپ اپنے شرائط و ضوابط اور پرائیوسی پالیسی کو اپ ڈیٹ کررہی ہے۔

اس نوٹیفکیشن میں اہم اپ ڈیٹس کے بارے میں بتایا گیا کہ صارفین کے ڈیٹا کے حوالے سے کمپنی کا اختیار بڑھ جائے گا اور کاروباری ادارے فیس بک کی سروسز کو استعمال کرکے واٹس ایپ چیٹس کو اسٹور اور منیج کرسکیں گے۔

فیس بک کی جانب سے واٹس ایپ کو اپنی دیگر سروسز سے منسلک کیا جاسکے گا۔

اب صارفین جو سالوں سے واٹس ایپ کا استعمال کررہے تھے انہیں ایپلی کیشن کا استعمال برقرار رکھنے کے لیے 8 فروری 2021 تک ان شرائط و ضوابط سے اتفاق کرنا ہے۔

تاہم واٹس ایپ کی اس تبدیلی پر اکثر صارفین برہم ہیں اور ان کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس برہمی کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔

سیلوادورائی نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ واٹس ایپ نئی پرائیویسی پالیسی میں تبدیلیاں انہیں ‘میسیجنگ، کالنگ، اسٹیٹس، گروپس (بشمول گروپ کا نام، گروپ ڈسکرپشن) ادائیگیاں یا بزنس فیچرز، پروفائل فوٹو، ‘اباؤٹ’ کی معلومات اور لاسٹ سین جمع کرنے کی رسائی دیتی ہے۔

 

یہ بھی دیکھیں

کابل میں پھر دھماکے، آٹھ افراد جاں بحق، شیعہ ہزارہ نشانے پر

کابل: افغانستان کے دارالحکومت میں جمعرات کو ہونے والے دو الگ الگ بم دھماکوں میں …