جمعرات , 22 اپریل 2021

جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری کے دوران دوبارہ ہنگامہ آرائی کے خدشات

امریکہ میں 20 جنوری کو نومنتخب صدر جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری کے دوران دوبارہ ہنگامہ آرائی کے خدشات کے پیش نظر امریکی فوجی قیادت نے اپنے اہلکاروں اور ملازمین کے نام ایک سرکلر جاری کیا ہے، جس میں واضح طور پر یہ ہدایت کی گئی ہے کہ فوج آئینی اور جمہوری عمل میں کسی صورت مداخلت نہیں کرے گی۔

فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ 6 جنوری کو کیپٹل ہل میں جو کچھ ہوا وہ غیر جمہوری اور مجرمانہ فعل تھا۔ آزادیٔ اظہار کسی کو تشدد کی اجازت نہیں دیتا۔ اس ہدایت نامے میں چیئرمین جوائنٹ چیف جنرل مارک ملی سمیت امریکی مسلح افواج کے تمام سربراہان کے دستخط موجود ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جو بائیڈن نو منتخب امریکی صدر ہیں اور وہ 20 جنوری کو صدارت کا حلف اٹھا رہے ہیں۔

یہ ہدایت نامہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قانون نافذ کرنے والے ادارے امریکہ میں جمہوریت کی علامت سمجھے جانے والی کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل میں ہنگامہ آرائی کے دوران مجرمانہ سرگرمیوں اور اس دوران حاضر اور سابق فوجی اہلکاروں کے کردار کا بھی تعین کرنے میں کوشاں ہیں۔

ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایوانِ نمایندگان میں ڈیموکریٹک ارکان کی جانب سے اپنے مؤاخذے کی کارروائی کے عمل کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ کیپٹل ہل پر اپنے حامیوں کے حملے کے بعد صدر نے پہلی بار منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کی۔ صدر ٹرمپ نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ کیپٹل ہل پر حملے، اس دوران توڑ پھوڑ اور 5 افراد کی ہلاکت کے ذمے دار ہیں۔

 

 

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …