اتوار , 11 اپریل 2021

ترکی کو گلے لگانے کے لیے سعودی عرب، امارات، بحرین اور مصر کی مقابلہ آرائي کی وجہ؟

ساڑھے تین سال کے نشیب و فراز کے بعد آخرکار قطر کے محاصرے کا معاملہ، محاصرہ کرنے والے ممالک یعنی سعودی عرب، بحرین، امارات اور مصر کی جانب سے سفید پرچم بلند کیے جانے کے بعد ختم ہو گيا۔

اب یہ چار اتحادی ممالک جو اپنے آپ کو شکست خوردہ دیکھ رہے ہیں، بری طرح سے ترکوں کی طرف دوڑ رہے ہیں اور ترکی سے زیادہ سے زیادہ قریب ہونے کے لیے اس کے دو حامیوں یعنی اخوان المسلمین اور وہابی و سلفی نظریات کے مخالفین کو گلے لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان میں سے کوئي ملک اپنے وزیر خارجہ کو ترکوں کی دست بوسی کے لیے بھیج رہا ہے تو دوسرا ترکوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے اختلاف کا انکار کر رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ایک سابقہ اتحاد کے رکن یہ چاروں ملک کیوں ترکی کے قریب ہونے کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ آرائي کر رہے ہیں؟ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بنیادی طور پر یہ ممالک، اول تو کسی مشترکہ دشمن کے وجود کو اپنی حیات کا ضامن سمجھتے ہیں اور دوسرے یہ کہ کسی بڑے اور حامی ملک کے سائے کے بغیر ان میں خود اعتمادی کا احساس پیدا نہیں ہوتا۔

ظاہر سی بات ہے کہ اب کسی ٹرمپ کا وجود نہیں ہے جو ان ممالک کو اپنے سائے میں لے لے اور ان کی بھرپور حمایت کرے۔ دوسری طرف ٹرمپ کی بہت زیادہ کوشش کے باوجود اسرائیل بھی، ان کی جگہ نہیں لے سکا اور کل کے ان اتحادی مممالک کو متحد نہیں کر سکا۔ ان حالات میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر اپنے سر پر کوئي سایہ نہیں دیکھ رہے ہیں اور اسی سائے کی تلاش میں وہ شاید ترکی کی چھتری تک پہنچے ہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …