ہفتہ , 27 فروری 2021

ٹی ٹی پی کے دو کمانڈر افغانستان میں ہلاک

پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث کالعدم جماعت الاحرار کے دو اہم کمانڈر افغانستان میں مارے گئے جبکہ ان کا ایک تیسرا ساتھی شدید زخمی ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق تینوں دہشتگرد افغانستان کے شمال مشرقی صوبے کنڑ میں جمعہ کو سڑک کنارے نصب ایک بم دھماکے میں نشانہ بنے۔ دھماکے میں دو دہشت گرد ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔ ہلاک ہونے والوں میں دہشت گرد کمانڈر نور گل عرف مسلم یار مہمند جماعت الاحرار کے مالی امور کا سربراہ تھا اور دہشت گردی کی کارروائیوں کیلئے فنڈ جمع کرتا تھا۔

اس کا دوسرا ساتھی رشید عرف ماما تنظیم کا نائب امیر تھا۔ دھماکے میں زخمی ہونے والے تیسرے دہشت گرد کی شناخت وحید گل کے نام سے ہوئی ہے۔ پاکستانی سیکیورٹی حکام کے مطابق تینوں دہشت گرد جماعت الاحرار کے اہم کمانڈر تھے اور بلوچستان سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں خودکش حملوں سمیت کئی بڑی تخریب کاریوں میں ملوث تھے۔

اسلام آباد میں عدالت پر حملے کے علاوہ ایف سی اور پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں کے بھی ماسٹر مائنڈ تھے۔ جماعت الاحرار اور حزب الاحرار کالعدم تحریک طالبان سے علیحدہ ہونے والے گروپ تھے جو گزشتہ سال دوبارہ ٹی ٹی پی میں ضم ہوگئے تھے۔

طالبان دھڑوں کا اتحاد

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے گزشتہ برس اگست میں اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹی ٹی پی کے دو دھڑوں جماعت الاحرار اور حزب الاحرار نے مرکزی تنظیم میں دوبارہ شمولیت اختیار کرتے ہوئے اپنے دھڑوں کو ختم کردیا ہے۔

عمر خالد خراسانی نے 2014 میں ٹی ٹی پی کے اس وقت کے امیر ملا فضل اللہ سے اختلافات کے باعث راہیں جدا کرتے ہوئے جماعت الاحرار کے نام سے الگ دھڑا تشکیل دیا تھا جس نے دسمبر 2014 میں آرمی پبلک اسکول پر کالعدم تحریک طالبان کے حملے کی مذمت بھی کی۔ بعد ازاں جماعت الاحرار کے بعض عناصر نے حزب الاحرار کے نام سے الگ گروپ تشکیل دیا۔

پاکستانی طالبان اور جماعت الاحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے سماء ڈیجیٹل کو اگست میں بتایا تھا کہ جماعت الاحرار نے انتظامی اختلافات کی بنیاد پر ٹی ٹی پی سے علیحدگی اختیار کی تھی کیونکہ اس وقت ان کا مطالبہ تھا کہ ہمارا تنظیمی ڈھانچہ افغان طالبان کے طرز پر ہونا چاہیئے اور سارے کام ایک خود مختار شوریٰ کو کرنے چاہییں جس میں تمام گروپس کو ان کی حیثیت اور صلاحیت کے مطابق نمائندگی حاصل ہو۔ اس معاملے پر اس وقت ٹی ٹی پی میں اختلافات پیدا ہوگئے تھے جس کا نتیجہ تنظیم سے علیحدگی کی صورت میں نکلا۔

احسان اللہ احسان کا ماننا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان کے ناراض دھڑوں کو متحد کرنے کا کریڈٹ تنظیم کے امیر مفتی نور ولی محسود کو جاتا ہے۔

سابق ترجمان کے مطابق ’مفتی نور ولی محسود تنظیم کے دیگر رہنماؤں سے مختلف اس لیے ہیں کہ انہوں نے امیر بننے کے ساتھ ہی مفاہمت کی پالیسی اپنائی اور ناراض دھڑوں کو اکٹھا کیا۔ ان کے مسائل سنے اور ان مسائل کو حل کیا یا انہیں حل کرنے کی یقین دہانی کروائی۔‘

احسان اللہ احسان نے 2017 میں مبینہ طور پر ایک معاہدے کے تحت خود کو پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے حوالے کیا تھا مگر جنوری 2020 میں وہ پاکستان کی حراست سے فرار ہوئے۔

جماعت الاحرار اور حزب الاحرار سے قبل شہریار محسود گروپ کے چند کمانڈر اور پنجابی طالبان کا ایک گروہ بھی تحریک طالبان کا حصہ بن چکا ہے جو القاعدہ کے قریب سمجھا جاتا تھا۔

پاکستان اور افغانستان میں شدت پسند گروہوں پر نظر رکھنے والے دیگر لوگوں کا بھی ماننا ہے کہ ٹی ٹی پی کو دوبارہ متحد کرنے میں مفتی نور ولی محسود کا اہم کردار ہے۔

خیبرپختونخواہ کے صحافی رفعت اللہ اورکزئی جو ماضی میں کئی طالبان کمانڈرز کا انٹرویو کرچکے ہیں، کہتے ہیں کہ مفتی نور ولی محسود کا سابق امیر ملا فضل اللہ کے مقابلے میں تنظیم پر کنٹرول زیادہ ہے۔

مفتی نور ولی محسود 2018 میں ملا فضل اللہ کے افغانستان میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے کے بعد ٹی ٹی پی کے امیر بنے تھے۔

رفعت اللہ اورکزئی کہتے ہیں کہ جب ٹی ٹی پی کا قیام عمل میں آیا تو اس وقت محسود قبیلے کے ہی افراد اس گروہ کے ابتدائی ’فٹ سولجرز‘ تھے اور مفتی نور ولی محسود ان افراد میں سے ایک تھے۔ مفتی نور ولی محسود ٹی ٹی پی کے سابق امیر حکیم اللہ محسود کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک ہیں، اسی لئے ان کا ٹی ٹی پی پر کنٹرول زیادہ ہے۔

رفعت اللہ اورکزئی کا کہنا ہے کہ مفتی نور ولی محسود ایک جنگجو بھی رہے ہیں لیکن تنظیم کے اندر انہیں ایک ’عالم‘ اور ’سیاستدان‘ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ وہ 2017 میں ’انقلاب محسود‘ کے عنوان سے کتاب بھی لکھ چکے ہیں جس میں انہوں نے تنظیم میں موجود خامیوں پر بھی کھل کر لکھا جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ معاملات کو سلجھانے کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔

کیا متحد ٹی ٹی پی پاکستان میں واپسی کی صلاحیت رکھتی ہے؟

سال 2014 میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا جس کے باعث ٹی ٹی پی نہ صرف کمزور ہوئی بلکہ اس کے زیادہ تر لوگ پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔

ٹی ٹی پی کے بیشتر کمانڈر آج بھی افغانستان کے علاقے پکتیا، کنڑ اور ننگرہار میں مقیم ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اس وقت 6500 کے قریب پاکستانی جنگجو افغانستان میں موجود ہیں۔

لیکن اس کے باوجود بھی طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نہیں سمجھتے کہ ٹی ٹی پی پاکستان میں واپسی کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ ٹی ٹی پی پہلے کی طرح کسی علاقے پر قبضہ کرکے اپنا تسلط قائم کر سکتی ہے مگر وہ پاکستان کے اندر بڑے حملے کرنے کی صلاحیت اب بھی رکھتی ہے اور ری گروپنگ سے ان کو مزید طاقت ملے گی‘۔

رفعت اللہ اورکزئی بھی احسان اللہ احسان سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مفتی نور ولی محسود ناراض ٹی ٹی پی دھڑوں کو تنظیم میں واپس شامل کرنے میں تو کامیاب ہوگئے ہیں لیکن ان کی تنظیم کی پاکستان کے کسی علاقے میں دوبارہ آمد تقریباً ناممکن نظر آتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان میں ٹارگیٹڈ کاررائیاں کرسکتی ہے اور پاکستان کے لئے مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔

 

یہ بھی دیکھیں

اسرائیلی جنگی طیاروں کی لبنانی حدود میں دراندازی

غاصب صیہونی حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی خلاف ورزی …