جمعرات , 24 جون 2021

داعش کا حل صرف زینیبون ہے

تحریر: سویرا بتول

حالیہ دنوں میں داعش خراسان نے آڈیو پیغام میں مچھ میں کیے گئے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اِس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ ان کی تنظیم نے یہ حملہ پاکستان کے اہل تشیع افراد کی جانب سے شام اور عراق میں فعال زینبیون اور فاطمیون نامی مسلح شیعہ تنظیموں میں شمولیت کے ردعمل میں کیا ہے۔ آیئے جانتے ہیں کہ زینیبون اور فاطمیون کون ہیں اور عرصہ دراز سے ترک، عرب اور پاکستانی میڈیا زینبیون کے خلاف جو پروپیگنڈہ کر رہا ہے، اُس میں کتنی صداقت ہے۔ سب سے پہلا سوال یہ کہ کیا کسی پاکستانی کا کسی دوسرے ملک جا کر جنگ لڑنا، کیا زینبیون کوئی پہلی تنظیم ہے، جس نے یہ کام کیا ہے؟ تو اس کا جواب ہے بالکل نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی بہت سی دیوبندی اور وہابی و اہل حدیث مسلک تنظیموں نے افغانستان میں جا کر جنگ میں حصہ لیا ہے۔ لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ زینبیون نے جس ملک جا کر یہ کام کیا ہے، یہ اس حکومت و ریاست کی اجازت سے کیا ہے۔ لیکن جو پاکستانی افغانستان کی جنگ میں حصہ لینے گئے تھے، وہ اس ملک کی حکومت کے خلاف جنگ لڑنے گئے تھے۔

پاکستان سے ہزاروں افراد شام میں داعش میں بھرتی ہوۓ اور اُن تمام دہشت گردوں کا ایک ہدف متعین تھا کہ حرمِ نواسی رسول جناب ِزینب عالیہ ؑ اور دیگر اہلسنت اور اہلِ تشیع کے مقدس مقامات کو مسمار کیا جاۓ۔ یہ وہ آئیڈیالوجی ہے جو پاکستان سمیت دنیا بھر میں اپنے منحوس اثرات پھیلا چکی ہے۔ اسی آئیڈیالوجی کے تحت آلِ سعود نے سب سے پہلے قبر اطہر بنتِ مصطفیٰ جنابِ فاطمہ زہراءؑ کو منہدم کیا، پھر ازواجِ مطہراتؓ، اہلِ بیت اطہار علیہم السلام اور اصحابِ کرامؓ کے مزارات اور قبور کو مسمار کیا اور اگر آلِ سعود کو امتِ مسلمہ کے شدید ردِعمل کا خوف نہ ہوتا تو اِن سے بعید نہیں تھا کہ یہ مسجدِ نبویﷺ کو بھی منہدم کرنے میں بھی کچھ تاخیر کرتے۔

اس دفعہ اسلام کے خلاف اسلام کے نام پہ جنگ مسلط کی گئی اور بانی اسلام کے اہلِ بیتؑ کے مزارات اور اصحاب کی قبور کی مسماری کے ذریعے مسلمانوں کے مقدسات کی بے حرمتی کرتے ہوئے مسلمانوں کو دست و گریبان کرنے کی مزموم کوشش کی گئی اور سنیت کے نام پر بنائے جانے والے گروہ داعش اور جبھۃ النصرہ جیسے شدت پسندوں کی آڑ میں اہلسنت کو شیعہ کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا جانے لگا، تاکہ مقابلہ میں شیعہ مسلمان جہاں کہیں اکثریت کے حامل ہیں، وہاں اہلسنت کا قتلِ عام کریں اور بلاد ِمسلمین اپنے ہی ہاتھوں تباہی کے دہانے پر جا پہنچے اور استکباری و سامراجی طاقتیں اپنے نجس اہداف تک پہنچ سکیں۔

انِ سنگین حالات میں پوری دنیا سے بابصیرت اور آگاہ نوجوان اپنی دینی قیادت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کے مقابلے میں صف آراء ہوگئے، جن کو ہم "مدافعین حرم” کے نام سے جانتے ہیں۔ مدافعین حرم جس ہدف کے تحت عراق اور شام میں تکفیری صہیونی داعش کے مقابلے میں کھڑے ہوئے وہ سب سے پہلے اپنی شرعی ذمہ داری کو انجام دینا تھا۔ شام میں پاکسانی شیعوں کا جانا غیرت و حمیت کا معاملہ تھا۔ حرم مطہر کی حفاظت کا معاملہ تھا۔ پاکستان سے چند لوگ حرمِ جنابِ زینب سلام علیہا کے دفاع میں گئے تو کیا 2011ء سے اب تک پاکستان میں کوئی ایک بھی حادثہ ہوا؟ دس سالوں میں یہ لوگ ملک عزیز کے لیے تھریٹ بنے ہوں؟ یا اِن افراد نے پاکستان میں کسی جگہ کوئی حملہ کیا ہو؟

اس طرح کی کوئی سادہ سی مثال بھی نہیں ملتی، جو ثابت کرتی ہے کہ مدافعین حرم پر لگائے گئے تمام الزامات سوائے جھوٹ کے کچھ نہیں اور یہ چند سعودی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے شہدائے مدافعین کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاتا رہا ہے۔ مگر دشمن جان لے کہ ہم امن پسند ہیں، لیکن مقدسات کے تحفظ کے لیے جان سے گزر جاتے ہیں، ہم دہشت گرد نہیں بلکہ اپنے نظریات اور مقدسات کے مدافعین ہیں اور ہمیں مدافعین سے عشق ہے۔ یہ نہ صرف اہل تشیع کے لیے باعث افتخار ہیں بلکہ اہلِ بیتؑ سے عقیدت و محبت رکھنے والے ہر باضمیر انسان کا فخر ہیں۔
قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم
اور نکلیں گے عشاق کے قافلے

اگر پاکستان سے کچھ لوگ حرم کے دفاع کے لیے گئے تو یہ ان کا فطری حق تھا۔ ریاست کی جانب سے فقط اِس وجہ سے شیعہ نوجوانوں کو لاپتہ کر دینا کہ وہ زینیبون کا حصہ بنے، کوئی جواز نہیں رکھتا۔ اگر کسی کی نظر میں وہ مجرم تھے تو انہیں پاکستانی قانون کے تحت مجرم قرار دیکر عدالت میں پیش کیا جاتا، نہ کہ یوں ہراساں کرکے لاپتہ کر دیا جاتا، جبکہ اِس کے برعکس وہ ہزاروں لوگ جو اس وطنِ عزیز سے داعش میں بھرتی ہوئے فقط پنجاب سے ساٹھ ہزار لوگ داعش میں بھرتی کیے گئے، اُنہیں ریاست کی جانب سے تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ سانحہ مچھ میں شہید ہونے والے مزدور کان کنوں کا زینیبون سے تو کوئی تعلق نہ تھا، انہیں کس جرم میں شہید کیا گیا؟ شام جانے والے پاکستانی اہل تشیع کو لیکر جانے میں کوئی تنظیم، انجمن، گروہ یا تحریک شامل نہیں تھی اور نہ ہی لوگوں کو اس عمل سے روکا جا سکتا تھا۔ لوگوں کا جانا فطری تھا۔ اب کوئی نیا لشکر نہیں بنا اور نہ ہی اب کوئی شام جا رہا ہے۔ یوں ہمارے نوجوانوں کو ہراساں کرنا اور غیر آئینی طور پہ ماورائے عدالت لاپتہ کرنا بند کیا جائے۔
نہ انتظار کرو ان کا اے عزا دارو
شہید جاتے ہیں جنت کو، گھر نہیں آتے

یہ بھی دیکھیں

اینٹی وائرس سافٹ ویئر کے بانی جان میک ایفی کی جیل میں خودکشی

اینٹی وائرس سافٹ وئیر کے بانی جان میک ایفی(John McAfee) نے اسپین کی جیل میں …