منگل , 9 مارچ 2021

ایک ہی تھیلے کے چٹے بٹے…

امریکا کے نئے صدر جو بائیڈن نے ڈونلڈ ٹرمپ کے کئی متنازع فیصلوں کو تبدیل کر دیا ہے۔

کہتے ہیں کہ اقتدار کے نشے میں چور رہنما غلط فیصلے کرتے ہیں، ان غلط فیصلوں کی وجہ سے نہ جانے کتنے لوگوں کو اقتصادی اور نفسیاتی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ جب اقتدار کا غلط فائدہ اٹھانے والوں کو اقتدار سے بے دخل ہونا پڑتا ہے اور اس کے سارے فیصلے ویسے ہی رکھے رہ جاتے ہیں۔

امریکا میں جو بائیڈن کی نئی حکومت اقتدار میں آئی اور وہ بہت سارے متنازع فیصلوں کو بدل رہی ہے۔

جو بائیڈن نے امریکا کا صدر بننے کے بعد ہی کئی اہم فیصلے کئے۔ انہوں نے پیرس ماحولیاتی معاہدے میں امریکا کی پھر سے واپسی پر دستخط کئے۔ اسی کے ساتھ بائیڈن نے ٹرمپ کے مسلم ٹریول بین کے فیصلے کو بھی مسترد کر دیا، بائیڈن نے میکسیکو کی سرحد پر دیوار بنانے کے ٹرمپ کے فیصلے کو خارج کرتے ہوئے اس کی فنڈنگ ہی روک دی۔

یہاں پر ہمارے لئے جو چیز سب سے اہم ہے وہ ٹرمپ کے ظالمانہ فیصلوں کو روکا جانا ہے، حالانکہ اس جگہ پرہمیں عراق اور شام میں امریکا کی غیر قانونی فوجی موجودگی اور اس کے نتائج کو فراموش نہيں کرنا چاہئے۔

یہ واضح ہے کہ ریپبلکن اور دیموکریٹ دونوں ہی پارٹیاں مشترکہ اہداف کو آگے بڑھاتی ہیں اور دنوں کے درمیان فرق صرف ان کی روش میں ہے۔

امریکا کی یہ دونوں ہی اہم پارٹیاں امریکی مفاد کی حفاظت کرنے، دوسری قوموں کی وراثتوں کو لوٹنے، ان کو اپنا غلام بنانے اور علاقے میں اسرائیل کے مفاد کو ترجیح دینے جیسے توسیع پسندانہ اہداف کو پورا کرنے پر متحد ہیں۔ اسی لئے کہا جا سکتا ہے کہ دونوں ایک ہی تھیلے کے چٹے بٹے ہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

امریکا، دہشت گردی کی ماں ہے: یمن

یمن کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکا، دہشت گردی کی ماں ہے۔ یمن …