بدھ , 21 اپریل 2021

ابوطالب قریش کے بہادر ترین شخص تھے جنہوں نے رسول اکرم (ص) کا دفاع کیا , علامہ محمد امین شہیدی

علامہ محمد امین شہیدی نے کہا: جناب ابوطالب قریش کے وہ بہادر ترین شخص تھے جنہوں نے رسول اکرم (ص) کا دفاع کیا اور اپنی زندگی کے آخری لمحے تک اس راہ میں ثابت قدم رہے۔ آئمہ طاہرین نے جناب ابوطالب کے روشن چہرے سے نقاب کشائی کی ہے وہ چہرہ جو اسلام کا مدافع، مرد مجاہد اور مومن قریش تھا اور اپنی ساری زندگی حضرت محمد (ص) کی خدمت میں گزار دی۔

ابلاغ نیوز کی رپورٹ کے مطابق جناب ابوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار کے تیسرے روز ۱۱ مارچ ۲۰۲۱ کو "ابوطالب بین الاقوامی مفکرین کی نگاہ میں” کے عنوان سے ایک نشست کا انعقاد کیا گیا۔

اس نشست میں پاکستان کی تنظیم امت واحدہ کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین محمد امین شہیدی نے جناب ابوطالب کی خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جناب ابوطالب ایک درخشاں اور روشن شخصیت کا نام ہے جو سورج کی طرح آسمان مکہ پر چکتی رہی، بعثت رسول کے بعد اسلام کے تئیں جناب ابوطالب بے شمار خدمات انجام دیں۔

انہوں نے کہا: جناب ابوطالب قریش کے وہ بہادر ترین شخص تھے جنہوں نے رسول اکرم (ص) کا دفاع کیا اور اپنی زندگی کے آخری لمحے تک اس راہ میں ثابت قدم رہے۔ ائمہ طاہرین نے جناب ابوطالب کے روشن چہرے سے نقاب کشائی کی ہے وہ چہرہ جو اسلام کا مدافع، مرد مجاہد اور مومن قریش تھا اور اپنی ساری زندگی حضرت محمد (ص) کی خدمت میں گزار دی۔

علامہ محمد امین شہیدی نے مزید کہا: ابوطالب ایک عرفانی شخصیت کے مالک تھے جو موحد گھرانے میں پیدا ہوئے وہ جناب عبد المطلب کے بیٹے ہیں جو خدا پرست تھے جب عبد المطلب کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے حضرت محمد(ص) کا ہاتھ جناب ابوطالب کے ہاتھ میں دیا۔

امت واحدہ پاکستان کے سربراہ نے مزید کہا: جناب ابوطالب ابوجہل اور ابولہب جیسوں کے مقابلے میں اٹھے اور وہ تمام خطرات جو پیغمبر اکرم کو لاحق تھے اپنی جان کے لیے مول لیے لیکن پیغمبر کو ذرہ برابر بھی آنچ نہ آنے دی جناب ابوطالب کی جانثاری اور فداکاری اس بات کا باعث بنی کہ پیغمبر اکرم ہمیشہ اپنے چچا جناب ابوطالب کی پناہ میں رہے۔

انہوں نے کہا: جس سال جناب ابوطالب کا انتقال ہوا رسول اکرم نے اس سال کو عام الحزن کا نام دیا، پیغمبر اکرم کو جناب ابوطالب سے جو محبت تھی وہ صرف چچا ہونے کے ناطے نہیں تھی بلکہ حضرت ابوطالب حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کے سرپرست تھے اور اس راہ میں پیغمبر اکرم خدا کے حکم سے جناب ابوطالب سے محبت کرتے تھے اور یہ محبت جناب ابوطالب کے ایثار و قربانی کی وجہ سے تھی۔

حجۃ الاسلام علامہ محمد امین شہیدی نے کہا: جب اسلامی خلافت کی باگ ڈور اموی خاندان کے ہاتھوں میں چلی گئی تو امویوں نے حضرت علی ابن ابی طالب سے اپنے مقتولین کا انتقام لینے کے لیے حتی حضرت علی پر بھی معاذ اللہ کفر کا الزام لگا دیا چہ جائیکہ ابوطالب، اور حضرت علی کے پورے خاندان کے بارے میں حدیثیں جعل کرنا شروع کر دیں اور ان پر من گھڑت الزام تراشے جانے لگے۔

تنظیم امت واحدہ کے سربراہ نے جناب ابوطالب کی شخصیت پر ہر اعتبار سے تحقیقی کام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: حضرت ابوطالب ایسی شخصیت ہیں جن کی زندگی کے ہر پہلو پر تحقیقی کام کرنے کی ضرورت ہے ہمیں ان کے ایمان جو آب زلال کی طرح ہے کو دنیا والوں میں پہچنوانے کی ضرورت ہے برصغیر میں جناب ابوطالب تمام شیعوں اور بہت سارے اہل سنت کے درمیان قابل احترام شخصیت ہیں اور برصغیر کے بہت سارے اہل سنت کے علماء نے ان کے ایمان پر کتابیں بھی لکھی ہیں لیکن یہ کاوشیں کافی نہیں ہیں بلکہ ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنے اور ان کے ایثار اور فداکاری کے نمونوں کو تاریخ سے نکال کر دنیا والوں کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …