بدھ , 21 اپریل 2021

ریاض میں ملک خالد ہوائی اڈے پر یمنی فوج کا جوابی حملہ

یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے یمن پر سعودی اتحاد کی وحشیانہ جارحیت اور اس ملک کے جاری محاصرے کے ردعمل میں ایک بار پھر ریاض میں ملک خالد ہوائی اڈے میں فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے

المنار ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے یمن پر سعودی اتحاد کی وحشیانہ جارحیت اور محاصرے کے جواب میں ایک بار پھر ریاض میں ملک خالد ہوائی اڈے میں فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

یمنی فوج کے اس حملے کے بعد ریاض ہوائی اڈے پر پروازوں کی سرگرمیوں میں خلل واقع ہوا ہے ۔

سعودی ایئرلائنس نے ایک بیان میں یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی اس کارروائی کے نتیجے میں پروازوں کے عمل میں ہونے والی تاخیر پر مسافروں سے معافی مانگی اور اعلان کیا کہ اس قسم کے واقعات کا ایرپورٹ حکام سے کوئی تعلق نہیں ہے سعودی عرب کے ایرٹرافیک کنٹرول مراکز کی تصاویر سے بھی سعودی عرب کی فضا میں سناٹا اور پروازوں کے نظام میں خلل پیدا ہونے کی نشاندہی ہوتی ہے۔

اس درمیان سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے اپنی جارحیت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے پیر کی صبح بھی یمن کے دارالحکومت صنعا پر پانچ بار حملہ کیا اور اس شہر کو وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنایا۔

المسیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے صنعا میں واقع النہدین کو چار بار اور النہضہ کو ایک بار جارحیت کا نشانہ بنایا۔

سعودی اتحاد نے دعوی کیا ہے کہ اس حملے میں یمن کے دارالحکومت صنعا میں میزائل اور ڈرون طیارے بنانے والے کارخانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اس بیان میں یہ بھی دعوی کیا گیا ہے کہ اس قسم کے حملوں کا مقصد سعودی عرب پر یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے حملوں کے ذرائع کو تباہ کرنا ہے۔

سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے اسی طرح یمن کے صوبے حجہ میں عبس کے علاقے بنی حسن پر بھی بمباری کی۔

اس درمیان یمن کی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا ہے کہ سعودی اتحاد نے گذشتہ چھے برسوں کے دوران یمن کے مختلف علاقوں پر دو لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد بار اور رواں عیسوی سال کے آغاز سے اب تک ایک ہزار سے زائد بار حملے اور بمباری کی ہے۔

فارس خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحیی سریع نے اعلان کیا ہے کہ سعودی اتحاد کے ان حملوں میں یمن کے دسیوں ہزار مظلوم عام شہری شہید و زخمی اور ملک کے بیشتر علاقے منجملہ شہر و قصبے دیہات، مکانات، سڑکیں، مساجد، تنصیبات پانی و بجلی کے مراکز اور عام شہریوں کی خدمات کے مراکز تباہ وبرباد ہوئے ہیں۔

یحیی سریع نے کہا کہ یمنی عوام پر سعودی اتحاد کی جاری جارحیت کے جواب میں یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے بھی گذشتہ چھے برسوں کے دوران سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں فوجی مراکز پر بارہ ہزار تین سو چھیاسٹھ حملے کئے۔

یمن کے اینٹی ایرکرافٹ یونٹ نے بھی پندرہ سو چونتیس بار کارروائیاں انجام دیں اور مجموعی طور پر پانچ سو پینتالیس جنگی طیاروں، ہیلی کاپٹروں نیز ڈرون طیاروں کو تباہ کیا نیز جنوبی سعودی عرب میں خمیس مشیط میں واقع ملک خالد اور جنوبی سعودی عرب میں ابہا ہوائی اڈوں میں فوجی اہداف کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …