ہفتہ , 17 اپریل 2021

سعودی اتحاد کی الحدیدہ پر جارحیت 5 یمنی زخمی

یمنی فوج کا کہنا ہے کہ سعودی اتحاد کے آلۂ کاروں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران الحدیدہ میں ایک بار پھرجنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مختلف علاقوں پر گولہ باری کی ہے۔

المسیرہ ٹی وی نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمن کے صوبے الحدیدہ پر جارح سعودی اتحاد کےجنگی طیاروں اور ڈرون نے پروازیں کیں، توپخانوں کے گولے داغے اور بھاری اور ہلکے ہتھیاروں سے حملے کئے جس کے نتیجے میں 5 یمنی زخمی ہوئے اور گھروں کو کافی نقصان پہنچا۔

جارح سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے اتوار کی صبح بھی یمن کے دارالحکومت صنعا کو وحشیانہ بمباری کا نشانہ بنایا تھا ۔

جارح سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے صنعا کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس شہر کے دیگر دو شہروں پروحشیانہ حملے کئے ہیں ۔

دراین اثنا یمن کی سیاسی کونسل کے سربراہ سلطان السامعی نے اعلان کیا ہے کہ صوبہ مآرب کی آزادی کے بعد یمن کی مسلح افواج کا اگلا ہدف شبوہ اور حضرموت صوبے ہوں گے۔

سلطان السامعی نے کہا کہ یمن کی مسلح افواج کی پیشقدمی کے باعث سعودی عرب کے فوجیوں نے صوبہ مآرب سے پسپائی اختیار کر لی ہے اور دوردراز صوبوں کی جانب فرار کر گئے ہیں ۔

السامعی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ سعودی عرب کو یمن کی جنگ میں امریکہ نے پھنسایا ہے کہا کہ مسلح افواج نے سعودی عرب کے اندر سیکڑوں حساس علاقوں کا پتہ لگایا ہے جنھیں ملک پر حملہ اور محاصرہ جاری رکھنے کی صورت میں نشانہ بنایا جائے گا۔

گذشتہ ہفتوں کے دوران یمن کی مسلح افواج نے صوبہ مآرب میں اچھی خاصی پیشقدمی کی ہے اور اس صوبے کو پوری طرح آزاد کرانے کے قریب پہنچ گئے ہیں ۔

صوبہ مآرب ، تیل اور گیس کی صنعت اور قدرتی ذخائرسے مالا مال ہے اور اس صوبے میں موجود ڈیم اور واٹر سپلائی نیٹ ورک اقتصادی لحاظ سے نہایت اہمیت کا حامل ہے اس بنا پر اس صوبے پرکنٹرول یمن کے عوام کے بہت سے اقتصادی و معاشی مسائل کو ختم کرسکتا ہے ۔

سعودی عرب ، امریکہ ، متحدہ عرب امارات اور چند دیگر ممالک کی مدد سے مارچ دوہزار پندرہ سے یمن پر جارحانہ حملے کررہا ہے اور ساتھ ہی اس ملک کا بری، بحری اور فضائی محاصرہ بھی کئے ہوئے ہے ۔

یمن میں سعودی عرب کے حملوں اور جنگی جارحیتوں کے سبب اب تک سترہ ہزار سے زیادہ یمنی شہید اور زخمی ہوچکے ہیں جبکہ لاکھوں یمنی بےگھراور دربدر ہوچکے ہیں ۔

اس غریب عرب ملک پر سعودی عرب کی فوجی جارحیت نے اس ملک کو دواؤں اور غذاؤں کی شدید قلت سے دوچار کردیا ہے ۔

یمن کے عوام کی استقامت و مزاحمت کے باعث جارح سعودی عرب کو اب تک اپنا کوئی ہدف حاصل نہیں ہوسکا ہے ۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …