منگل , 13 اپریل 2021

نئی سرد جنگ کے خدشات، کسی بدتر حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں ، روس

روس نے نئی سرد جنگ کے خدشات پر کہا ہے کہ ہم ہمیشہ بہترین کی اُمید رکھتے ہیں لیکن کسی بدتر حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن کی جانب سے رواں ہفتے پیوٹن کو قاتل قرار دینے کا بیان سامنے آنے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔

روس نے اس بیان کے بعد امریکا سے اپنے سفیر کو واپس بلایا جبکہ پیوٹن نے جو بائیڈن کو آن لائن مذاکرات کی پیش کش بھی کردی۔

کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے تازہ بیان میں کہا کہ پیوٹن کی مذاکرات کی پیش کش موجود ہے اور جوبائیڈن کی سہولت کے مطابق پیوٹن کسی بھی وقت تیار ہیں تاہم یہ پیش کش غیر معینہ مدت تک ٹیبل پر نہیں رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ ‘پیوٹن کہہ چکے ہیں کہ سب کچھ کے باوجود میگافون سفارت کاری اور بیانات کے تبادلے کا کوئی سرا نہیں ہے، تعلقات جاری رکھنے کا ایک موقع ہے’۔

روس اور امریکا کے درمیان سرد جنگ سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ‘ہم ہمیشہ اچھے کی امید رکھتے ہیں لیکن غیرمتوقع صورت حال کے لیے بھی تیار ہیں’۔

ترجمان نے کہا کہ ‘جہاں تک روس کا تعلق ہے تو پیوٹن واضح طور پر اپنی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں وہ تعلقات میں تسلسل کے خواہاں ہیں’۔

امریکی صدر کے بیان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘لیکن ہم بائیڈن کے بیان پر دھیان نہیں دے سکتے’۔

خیال رہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن نے دو روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ پیوٹن کو قاتل سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ روسی صدر میں رحم نہیں ہے اور بائیڈن سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ پیوٹن کو قاتل سمجھتے ہیں تو ان کا واضح جواب تھا کہ ‘میں ایسا ہی سمجھتا ہوں’۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک انٹرویو میں روسی ہم منصب ولادی میر پیوٹن کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں امریکی صدارتی انتخاب میں مداخلت کی کوششوں کی قیمت چکانی پڑے گی۔

جو بائیڈن نے کہا تھا کہ روسی صدر پیوٹن کو امریکی صدارتی انتخاب 2020 ٹرمپ کے حق میں کرنے کی کوششوں کی ہدایات دینے پر نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ وقت بہت جلد آئے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں انہیں بہتر جانتا ہوں، غیر ملکی قیادت سے معاملات نمٹانے کے لیے میرے تجربے کے مطابق بہت اہم چیز دوسرے فریق کے بارے میں معلومات رکھنا ہے۔

قبل ازیں امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ماسکو کی جانب سے امریکی صدارتی انتخاب میں مداخلت کی کوششوں کے پیچھے پیوٹن تھے جبکہ روس ان الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کرتا رہا ہے۔

جو بائیڈن کے بیان کے بعد روس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ تعلقات سے متعلق مشاورت کے لیے اپنے سفییر کو واپس بلا لیا تھا۔

روس کی وزارت خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکا میں تعینات سفیر اینیٹولی انیٹونوف کو واپس ماسکو بلا لیا گیا ہے تاکہ روس کے امریکا کے ساتھ تعلقات کے مستقبل پر مشاورت کی جائے۔

وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ اقدام باہمی تعلقات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا تاکہ ناقابل تلافی بگاڑ پیدا نہ ہو۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …