پیر , 12 اپریل 2021

یمنی عوام پر سعودی اتحاد کی جارحیت جاری

جارح سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے یمن کے درالحکومت صنعا سمیت مختلف شہروں کے رہائشی علاقوں میں شدید فضائی حملے کئے ہیں ۔ یہ حملے سعودی حکومت کی جانب سے جنگ بندی کی تجویز پیش کئے جانے کے بعد انجام دیئے گئے ہیں۔

المسیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صوبے مآرب میں یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی پیش قدمی پر تلملائے جارح سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے دارالحکومت صنعا سمیت یمن کے مختلف علاقوں پر شدید بمباری کی ہے۔ المسیرہ ٹیلی ویژن چینل کی رپورٹ کے مطابق یمنی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے صنعا کے ایئرپورٹ اور صوبہ صنعا کے کئی علاقوں کو جارحیت کا نشانہ بنایا ۔صوبے حجہ کو بھی سعودی اتحاد نے اپنے شدید حملے کا نشانہ بنایا۔ابھی تک ان حملوں میں ممکنہ طور پر ہونے والے جانی اور مالی نقصان کے بارے میں کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے۔

یہ حملے سعودی عرب کے اس اعلان کے بعد کئے گئے ہیں کہ ریاض نے یمن جنگ کے خاتمے کے لئے ایک فارمولہ تیار کیا ہے۔

فارس خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سعودی فرمانروا کے بیٹے اور اس ملک کے نائب وزیر دفاع خالد بن سلمان بن عبدالعزیز نے دعوی کیا ہے کہ فائر بندی سے متعلق ان کے ملک کا منصوبہ یمن کا بحران ختم کرنے اور سیاسی راہ حل تک پہنچنے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے بھی جارح سعودی اتحاد کے کمانڈروں کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں یمن میں فوری طور پر جنگ بندی کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے ایک فورمولہ تیار کیا ہے جس کی رو سے صنعا ایرپورٹ محدود پیمانے پر کھل جائیگا اور الحدیدہ بندرگاہ کا محاصرہ نرم کر دیا جائیگا۔

فیصل بن فرحان نے ایک بار پھر ایران پر یمن کے امور میں مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے دعوی کیا کہ یمن کی جنگ کے طویل ہونے کی وجہ، یمن کے امور میں بقول ان کے تہران کی مداخلت ہے۔

دوسری جانب یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصاراللہ کے ترجمان محمد بن عبدالسلام نے سعودی عرب کی تجویز کے بارے میں کہا ہے کہ یہ نئی نہیں بلکہ پرانی تجویز ہے۔انھوں نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب خود یمن کے خلاف جارحیت کا حصہ ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ جس منصوبے میں اس حقیقت کو مدنظر نہیں رکھا جائے گا کہ یمن کو جارحیت کا نشانہ بنایا گیا ہے وہ منصوبہ سنجیدہ نہیں ہو سکتا اور اور پھر کوئی نئی بات بھی نظر نہیں آئے گی۔

واضح رہے کہ یمن کے خلاف وحشیانہ سعودی جارحیت چھبیس مارچ کو ساتویں برس میں داخل ہوجائے گی ۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …