منگل , 13 اپریل 2021

یورپ اور امریکہ میں کورونا کے پھیلاو میں شدت

امریکا اور یورپ میں کورونا کے پھیلاؤ میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے ۔ دوسری جانب ویکسین کی فراہمی کے معاملے پر یورپی ملکوں میں شدید اختلافات پیدا ہوگئے ہیں اور برطانیہ نے یورپی یونین کو خفیہ چینلوں سے دھمکی آمیز پیغامات ارسال کیے ہیں۔

سی این این سمیت مغربی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق امریکہ اور یورپ میں کورونا کے پھیلاؤ میں خطرنات حد تک اضافے کے بعد متعلقہ اداروں نے عوام سے احتتیاطی تدابیر پر سختی کے ساتھ عملدرآمد کی اپیل کی ہے۔

وبائی امراض کے امریکی ادارے سی ڈی سی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے جاری وسیع ویکسینیشن مہم کے باوجود ، لازمی احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد میں کمی کے باعث ملک کو کورونا کی شدید ترین لہر کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔عالمی ادارہ صحت سے وابستہ ادارے ورلڈو میٹر کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد ساڑھے تین کروڑ سے تجاوز کرگئی ہے۔ جبکہ چھپن لاکھ کے قریب لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی فہرست میں ریاست کیلفورنیا، ٹیکساس، فلوریڈا، نیویارک اور ایلینوائے کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ امریکی ریاستیں ہیں۔وبائی امراض کے امریکی ادارے کے مطابق کرونا کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کے باعث سن دوہزار بیس، امریکی تاریخ کا سب سے زیادہ ہلاکت خیز سال ثابت ہوا ہے۔

دوسری جانب اطالوی وزارت صحت نے یورپی ملکوں میں برٹش کورونا کے پھیلاؤ میں شدت کے حوالے سے سخت خبردار کیا ہے۔ اطالوی وزیر صحت رادولف آنشوبر نے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ براعظم یورپ میں کورونا وائرس کے مریضوں میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔

اسی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آسٹریا کے چانسلر سباسٹین کورتز نے بتایا کہ ویانا سمیت ملک کے تین صوبوں کو برٹش کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا سامنا ہے اوراسپتالوں کی صورتحال تشویشناک ہوگئی ہے۔

جرمن چانسلر انگلامرکل کا اس موقع پر کہنا تھا کہ برٹش کورونا کے پھیلاؤ اور مریضوں کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر، ملک کے مشرقی صوبوں میں رستورانوں اور قہوہ خانوں کو بند رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

جرمن حکومت کورونا کے پھیلاؤ کے پیش نظر ملک گیر سماجی پابندیوں میں اٹھارہ اپریل تک توسیع کا ارادہ رکھتی ہے۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جرمنی میں کوروناوائرس کے مریضوں کی تعداد چھبیس لاکھ ستر ہزار سے تجاوز کرگئ ہے جبکہ پچھتر ہزار دو سو سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

ادھر برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ بعض یورپی ملکوں میں کورونا وائرس کی تیسری لہر میں شدت کے باعث برطانیہ بھی سنگین صورتحال سے دوچار ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجربہ سے پتہ چلتا ہے کہ کورونا کی جس لہر کا ہمارے دوستوں کو سامنا ہے وہ برطانیہ بھی پہنچ سکتی ہے اور اس کے لیے ہمیں تیار رہنا ہوگا۔

درایں اثنا یورپی ملکوں میں کورونا ویکسین کی قلت کے پیش نظر یورپی یونین اسرازینیکا سمیت کورونا ویکسین کی دیگر ملکوں کو برآمدات محدود کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

یورپی کمیشن کے سربراہ اورزو لا فونڈرلائن نے یہاں تک کہا ہے کہ اس وقت یورپ غریب ملکوں کو کورونا ویکسین مفت فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ یورپی کمیشن نے استرزینیکا بنانے والی کمپنی کو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ وہ معاہدے کے مطابق پہلے یورپ کی ضروریات پوری کرے اس کے بعد برطانیہ اور دیگر ملکوں کو یہ ویکسین برآمد کرے۔

فائنانشل ٹائمز کے مطابق یورپی یونین کے اس بیان پر برطانوی وزیراعظم نے شدید برھمی کا اظہار کیا اور اس رویئے کی بابت خفیہ چینلوں کے ذریعے بریسلز کو سخت خبردار کیا ہے۔

برطانیہ میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد تنتالیس لاکھ سے زائد ہے جبکہ ایک لاکھ چھبیس ہزار سے زائد لوگ کورونا کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …