جمعرات , 22 اپریل 2021

امریکہ کی افغانستان میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کی کوشش

امریکہ داعش دہشتگرد گروہ کے خلاف جنگ کے بہانے افغانستان میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

آوا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان میں اس ملک کی مسلح افواج کمیٹی کے سربراہ ایڈم اسمیتھ نے کہا کہ صدر جو بائیڈن کی حکومت ، داعش کے خلاف جنگ کے لئے افغانستان میں امریکی فوجیوں کو باقی رکھنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس سلسلے میں طالبان کے ساتھ سمجھوتہ کرنا چاہتی ہے ۔

ایڈم اسمیتھ نے مزید کہا کہ مئی تک افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا بہت جلدی ہے ۔ افغانستان میں داعش دہشتگرد گروہ کے خلاف جنگ کا اس امریکی عہدیدار کا دعوی ایسے عالم میں سامنے آیا ہے کہ ذرائع ابلاغ حتی امریکی حکام نے با رہا داعش کے ساتھ واشنگٹن کے رابطے اور اس کی حمایت کا اعتراف کیا ہے ۔ فروری دوہزار بیس میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے ساتھ امریکہ کے معاہدے کے مطابق امریکہ کو مئی کے شروع میں افغانستان سے اپنے فوجیوں کو باہر نکالنا ہے ۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ اور افغانستان میں قیام امن کے بہانے دوہزار ایک میں اس ملک پر حملہ کیا تھا لیکن اس کے بعد سے افغانستان میں بدامنی ، دہشتگردی اور منشیات کی پیداوار میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔

افغان حکام اور عوام ، با رہا اپنے ملک سے غیرملکی فوجیوں کے باہر نکلنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …