جمعہ , 23 اپریل 2021

گستاخ قرآن وسیم رضوی کو فورا گرفتار کیا جائے ، اہلبیت کونسل انڈیا کے ممبران کا مشترکہ مطالبہ

اس جلسہ میں مولانا محمد علی محسن تقوی امام شیعہ جامع مسجد دہلی نے کہا کہ وسیم رضوی قرآن کی توہین کرنے کے بعد مرتد ہو چکا ہے اور اس کا شیعیت اور اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے

گزشتہ روز ۲۴ مارچ کو اہلبیت کونسل انڈیا کا ایک اہم جلسہ منعقد ہوا جس میں ملک بھر سے آئے علماء کرام نے وسیم رضوی کے ذریعے قرآن کریم کی توہین کئے جانے اور قرآن سے 26 آیتوں کو حذف کرنے کی سپریم کورٹ میں داخل کی گئی پی آئی ایل خارج کرنے کی مانگ کی ۔

اس جلسہ میں مولانا محمد علی محسن تقوی امام شیعہ جامع مسجد دہلی نے کہا کہ وسیم رضوی قرآن کی توہین کرنے کے بعد مرتد ہو چکا ہے اور اس کا شیعیت اور اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔مولانا سید شمشاد احمد رضوی نے کہا کہ وسیم نے قرآن کریم پر اعتراض کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ اسلام دشمن طاقتوں کا آلہ کار بنا ہوا ہے اور اپنے عمل کے ذریعے امت مسلمہ میں اختلافات پیدا کرنا چاہتا ہے مگر وہ اپنے مقصد میں پوری طرح ناکام ہو چکا ہے۔

مسجد امامیہ ہال کے امام جمعہ مولانا شیخ ممتاز علی نے کہا کہ وسیم جیسے لوگ اس سے قبل بھی اس طریقے کی توہین آمیز حرکتیں کرتے آئے ہیں مگر وسیم رضوی کے خلاف پوری امت مسلمہ جس طرح سے متحد ہوکر کھڑی ہے وہ ایک اچھا قدم ہے ۔

اہلبیت کونسل کے صدر مولانا سید محمد رضا غروی نے کہا کہ وسیم رضوی کے خلاف پوری امت مسلمہ کا ایک ساتھ کھڑے ہونا ملت کے اتحاد کو روشن کرتا ہے اور قرآن کریم اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے جس میں ایک حرف کی بھی تبدیلی اور ترمیم کا امکان نہیں ہے ۔الہ آباد سے آئے مولانا سید جوادحیدر جوادی نے کہا کہ وسیم رضوی کا اس حرکت کے بعد ملت کے ساتھ ساتھ اپنے اہل خانہ کے ذریعے بھی بائیکاٹ کیا جا چکا ہے ایسے لوگوں کا اسلامی معاشرہ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔جونپور سے مولانا سید صفدر حسین زیدی نے وسیم رضوی کی مذمت کرتے ہوئے اس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔

اعظم گڑھ سے آئے مولانا سید سلطان حسین نے کہا کہ وسیم رضوی کو رضوی نہ کہہ کر وسیم رشدی کہا جائے کیونکہ وسیم رضوی نے وہی کام کیا ہے جو سلمان رشدی نے کیا تھا۔ جیپور سے آئے مولانا سید نازش اکبر نے وسیم رضوی کی اس حرکت کی شدید مذمت کی اور کہا کہ صرف حکومت کو خوش کرنے کی خاطر وسیم ملت کے درمیان اختلافات پھیلا نا چاہتا ہے ۔

بھوپال کے امام جمعہ مولانا سید اظہر حسین نے کہا کہ وسیم رضوی عالمی سطح پر مسلمانوں کی بدنامی کا سبب بنا ہوا ہے اس کو اسلام سے خارج کرنے کا فیصلہ قابل تحسین ہے۔ پونچھ سے آئے مولانا کرامت حسین جعفری نے وسیم رضوی کو بد نام زمانہ سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کے ہم پلہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔

جلسے میں مولانا سید رئیس احمد جارچوی نے وسیم رضوی کے ذریعے تو ہین قرآن کیے جانے کے عمل کو بےحد مذموم قرار دیا اور کہا کہ وسیم رضوی جیسے لوگوں کو سخت سے سخت سزا دی جائےاور سپریم کورٹ اپیل کو خارج کرتے ہوئے وسیم رضوی پر بھاری جرمانہ عائد کرے۔

احمدآباد سے آئےمولانا سید محمد اختر رضوی نے وسیم رضوی کی مذمت کرتے ہوئے اس کے بائیکاٹ کی اپیل کی۔اس موقع پر مولانا علی حیدر غازی، مولانا شیخ محمد عسکری، مولانا اشتیاق حسین سیتاپور، مولانا نامدار عباس ، مولانا عازم حسین زیدی، مولانا معصوم علی زیدی، مولانا مرزا عمران علی، مولانا جنان اصغر مولائی، مولانا حیدر مہدی کریمی،مولانا علی عباس حمیدی، مولانا عارف اعظمی، مولانا اظہر عباس مرزا ،مولانا ابن علی حیدری ، مولانا محمد رضا زیدی ،مولانا مرزا عرفان علی نے بھی وسیم رضوی کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

اہلبیت کونسل کے جنرل سیکرٹری مولانا سید جلال حیدر نقوی نے ملک بھر سے تشریف لانے والے تمام علمائے کرام کا شکریہ ادا کیا ۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …