منگل , 13 اپریل 2021

ایرانی عوام کے خلاف پابندیوں سے امریکہ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا، مجید تخت روانچی

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے جوہر معاہدے سے متعلق امریکی وزیر خارجہ کے بیان پر کہا کہ ایرانی عوام کے خلاف امریکہ کی ظالمانہ پابندیوں سے امریکہ کو کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا۔

اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب مجید تخت روانچی نے کہا کہ امریکہ یہ دعوی کرتا ہے کہ گیند اب ایران کے پالے میں ہے لیکن بائیڈن حکومت کو بر سر اقتدار آئے ہوئے دو ماہ کا عرصہ ہو چکاہے، اس کے باوجود امریکہ جوہری معاہدے اور قرار داد نمبر بائیس اکتیس کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب کا کہنا تھا کہ جو بائیڈن کی حکومت نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ٹرمپ کی زیادہ سے زیادہ دباو کی پالیسی ناکام ہوچکی ہے لیکن اس کے باوجود وہ بھی اسی پالیسی پر گامزن ہیں۔امریکہ کے وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے بدھ کے روز بریسلز میں نیٹو کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جوہری معاہدے سے امریکہ کے غیر قانونی اور یکطرفہ طور پر نکلنے کی جانب اشارہ کئے بغیر ایران کی جانب سے جوہری معاہدے کی پابندی کئے جانے پر تاکید کی۔
امریکی وزیر خارجہ نے اس پریس کانفرنس میں دعوی کیا کہ امریکہ اس موضوع پر سفارتکاری کے لیے تیار ہے تاہم ایران نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا اور اس طرح اب گیند ایران کے میدان میں ہے۔

امریکہ کی جوبائیڈن حکومت نے اس سے قبل ایٹمی معاہدے میں واپس لوٹنے اور ایران کے خلاف غیر قانونی پابندیاں ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا تاہم اب اعلان کیا ہے کہ ایٹمی معاہدے میں واشنگٹن کی واپسی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ایران ان اقدامات سے پسپائی اختیار کرے جو اس نے امریکہ کی جانب سے ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی کے ردعمل کے طور پر انجام دیئے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ اس بات کے پیش نظر کہ امریکہ نے بین الاقوامی ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور ایران کی جانب سے وعدوں سے پسپائی کے تحت جو اقدامات کئے گئے ہیں وہ امریکہ کے غیر قانونی اقدامات کے ردعمل میں کئے گئے ہیں لہذا ایران کی جانب سے اب کوئی بھی قدم ایرانی عوام کے خلاف عائد پابندیوں کے خاتمے کی صورت میں ہی عمل میں لایا جائے گا۔

ایران نے اسی طرح اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی ایٹمی معاہدے میں واپسی کے لئے کوئی شرط و مطالبہ بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ امریکہ کے سابق صدر ٹرمپ نے آٹھ مئی دو ہزار اٹھارہ کو یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر بین الاقوامی ایٹمی معاہدے سے علیحدگی اور سلامتی کونسل کی قرارداد بائیس اکتیس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے خلاف پابندیوں کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …