جمعرات , 22 اپریل 2021

دنیا نے ہمیں تنہا چھوڑ دیا لیکن ہم اپنے قدموں پر کھڑے ہو گئے ، مہدی المشاط

یمن کی سیاسی کونسل کے سربراہ نے زور دے کر کہا ہے کہ دنیا نے ہمیں تنہا چھوڑ دیا ہے اور جو یمن میں ہو رہا ہے اسے سن رہی ہے ، دیکھ رہی ہے لیکن کوئی اقدام نہیں کر رہی ہے-

المسیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یمن کی اعلی سیاسی کونسل کے سربراہ مہدی المشاط نے یمنی عوام کی قومی استقامت کے دن کی مناسبت سے اپنے ایک خطاب میں کہا کہ عوامی استقامت ، ہمیں دشمنوں کی ان پالیسیوں سے کہ جو گمراہ کن ، اشتعال انگیز ، فرقہ وارانہ اور مذہبی و علاقائی سطح پر تفرقہ ڈالنے والی ہیں محفوظ رکھے ہوئے ہے۔

مہدی المشاط نے یمن کی جنگ کے بارے میں اقوام متحدہ کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم اپنے دفاع کے جائز حق کو استعمال کرتے ہیں تو اقوام متحدہ کو تشویش ہوجاتی ہے اور جب یمن پر حملہ ہوتا ہے تو وہ خاموشی اختیار کرلیتی ہے ۔

یمن کے عوام ایسے عالم میں گذشتہ چھے برس سے جاری جارح سعودی امریکی اتحاد کی جارحیتوں کامقابلہ کر ہے ہیں کہ غاصبین کے پاس اپنے کئے پر پشیمان ہونے اور اپنی حرکتوں پر پچھتانے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا ہے کیونکہ استقامت نے اس دوران اپنی سیاسی ، عسکری اور اقتصادی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لئے بنیادی اور اہم قدم اٹھا کر دنیا کو حیرت زدہ کردیا ہے۔

درایں اثنا المسیرہ ٹی وی نے اعلان کیا ہے کہ جارح سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے صوبہ مآرب کے مدغل اور صرواح نامی علاقوں پر مسلسل کئی بار حملے کئے ہیں۔ابھی تک ان حملوں میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔یمن کے عسکری ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ سعودی جارحین اور اس کے ایجنٹوں و کرائے کے فوجیوں نے گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے اندر مغربی یمن میں واقع صوبہ الحدیدہ میں ایک سو انیس بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے ۔

جارح سعودی اتحاد ، صوبہ مآرب میں جنگی محاذوں پر اپنی ذلت آمیز شکست کے بعد اس وقت اس صوبے کو پہلے سے زیادہ شدید فضائی حملوں کا نشانہ بنا رہا ہے ۔

تیل کی دولت سے مالا مال اور اسٹریٹیجک اہمیت کے حامل صوبہ مآرب کو آزاد کرانے کے لئے انجام پانے والی کارروائیوں کا نیا مرحلہ ایک مہینے سے زیادہ عرصے سے جاری ہے اور یمنی افواج شہر مآرب کے قریب پہنچ چکی ہیں۔

یمن کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ مآرب کا محاذ گذشتہ برسوں کے دوران جارح فوجیوں اور دہشتگرد گروہوں کی یلغار اور لوٹ مار کا مرکز رہا ہے اور سعودی اتحاد نے خاص طور سے مآرب کے محاذ کو اسی لئے قائم کیا تھا تاکہ اسکو اپنی تمام فوجی جارحیتیں انجام دینے کے لئے مرکز کے طور پر استعمال کرے ۔

جارح سعودی عرب نے امریکہ ، متحدہ عرب امارات اور چند دیگر ممالک کی مدد سے مارچ دوہزار پندرہ سے یمن کو فوجی جارحیت کا نشانہ بنا رکھا ہے اور ساتھ ہی اس ملک کا بری بحری اور فضائی محاصرہ بھی جاری رکھا ہے-

یمن میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی یلغار اور جارحیت کے نتیجے میں اب تک سترہ ہزار سے زیادہ یمنی شہری شہید دسیوں ہزار زخمی اور دسیوں لاکھ بےگھر و دربدر ہوچکے ہیں۔

یمن پر سعودی عرب کی جارحیت اور محاصرے کے باعث اس غریب عرب ملک کو غذاؤں اور دواؤں کی شدید قلت کا سامنا ہے ۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …