اتوار , 18 اپریل 2021

اچانک گنگا الٹی بہنے لگی؟

پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات میں حالیہ مثبت پیش قدمی کو دیکھتے ہوئے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ اس میں تیسری طاقتیں بھی کردار ادا کر رہی ہیں۔ سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ عادل الجبیر نے چند دن قبل اعتراف کیا تھا کہ سعودی عرب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ عرب نیوز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں الجبیر نے کہا تھا کہ ہم علاقے میں امن اور استحکام کے لیے مستقل کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ چاہے وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین امن ہو یا لبنان، شام، عراق، ایران، افغانستان کا معاملہ ہو۔

23 مارچ یوم پاکستان کی مناسبت سے بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے نام مبارکباد کا ایک خط تحریر کیا ہے، جس میں انھوں نے اپنی ہمسائیگی کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستانی عوام سے اچھے تعلقات استوار کرنے کی بات کی ہے۔ انھوں نے اپنے مختصر سے پیام میں اعتماد کے فروغ اور خوف و جارحیت کی فضا کے خاتمے کی بات کی۔ خط میں نریندر مودی نے لکھا کہ ہم کوویڈ 19 سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ وفاقی وزیر برائے پلاننگ اسد عمر نے اس پیغام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے امن قائم کرنے کا موقف اختیار کیا ہے۔
اسی طرح انڈیا کے صدر رام ناتھ کووند نے بھی پاکستان کے صدر عارف علوی کے نام بھی یوم پاکستان پر خیر سگالی کے جذبات کا حامل خط ارسال کیا ہے۔

یاد رہے کہ بھارت کی جانب سے خطوط کی آمد کا یہ سلسلہ ایک ایسے وقت میں شروع ہوا ہے، جب دونوں ممالک کے درمیان لائن آف کنٹرول پر نئے سرے سے جنگ بندی ہوئی ہے۔ گذشتہ مہینے دونوں ملکوں کے ملٹری آپریشن کے ڈائریکٹرز نے اچانک کنٹرول لائن پر جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور اس وقت سے جنگ بندی پر مکمل طور پر عمل ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ سندھ طاس معاہدے کی سالانہ بات چیت کے لیے پاکستان کا ایک آٹھ رکنی وفد پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ کی قیادت میں نئی دلی میں اپنے انڈین ہم منصبوں سے بات چیت کر رہا ہے۔ یہ بات چیت دو سال کے بعد ہو رہی ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گذشتہ دنوں اسلام آباد میں پہلے اسلام آباد سکیورٹی مذاکرات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی کچھ اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ برصغیر میں امن کا خواب ادھورا ہے، جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو جاتا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ماضی کو دفن کیا جائے اور آگے بڑھا جائے۔ انھوں نے واضح کیا کہ بامعنی مذاکرات سے قبل ہمارے پڑوسی ملک کو ماحول کو سازگار بنانا ہوگا، خاص طور پر انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں۔ یاد رہے کہ آرمی چیف کہہ چکے ہیں کہ وہ کسی دباؤ میں امن کی بات نہیں کر رہے ہیں، دراصل پاکستان کئی سالوں سے امن کے قیام کی کوشش کر رہا ہے، لیکن مودی حکومت اس کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے، جو ایک رائیٹ ونگ مسلم مخالف حکومت ہے۔

انھوں نے کہا کہ خطے کی ترقی میں جو سب سے بڑی رکاوٹ ہے، وہ انڈیا اور پاکستان میں امن نہ ہونا ہے، اسی وجہ سے علاقائی ممالک کی تنظیم سارک بھی یورپی یونین کی طرح کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باوجوہ کا کہنا تھا کہ انڈیا اور پاکستان کے مستحکم تعلقات وہ چابی ہے، جس سے مشرقی اور مغربی ایشیاء کے مابین رابطے کو یقینی بناتے ہوئے جنوبی اور وسطی ایشیاء کی صلاحیتوں کو ان لاک کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ موقع دو ایٹمی ہمسایہ ممالک کے مابین تنازعات کی وجہ سے یرغمال بنا ہوا ہے۔ تنازعہ کشمیر واضح طور پر اس مسئلے کا مرکز ہے۔

پاکستان کی وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شریں مزاری نے انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے خط کے ردعمل میں ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ خیر سگالی کا اقدام خوش آئند ہے، لیکن بھارت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اعتماد کا حامل، دہشت گردی اور عداوت سے مبرا ماحول اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے، جب انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں نیز پاکستان میں بھارت ریاستی دہشت گردی کا خاتمہ ہو اور کشمیر تنازع بات چیت کے ذریعے حل ہو جائے۔ پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات میں حالیہ مثبت پیش قدمی کو دیکھتے ہوئے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ اس میں تیسری طاقتیں بھی کردار ادا کر رہی ہیں۔ سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ عادل الجبیر نے چند دن قبل اعتراف کیا تھا کہ سعودی عرب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ عرب نیوز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں الجبیر نے کہا تھا کہ ہم علاقے میں امن اور استحکام کے لیے مستقل کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ چاہے وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین امن ہو یا لبنان، شام، عراق، ایران، افغانستان کا معاملہ ہو۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب کی ان کوششوں کے پیچھے اس کی خطے میں بالادستی کی پالیسی ہے، سعودیہ میں بھارت کے سابق سفیر تلمیز احمد نے اس بات اظہار ان الفاظ میں کیا کہ سعودیہ ایران مخالف اتحاد میں پاکستان کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ انڈیا کو ایران سے دور کرنے کی حکمت عملی پر بھی کام کر رہا ہے۔ ان خدشات کے باوجود خیر سگالی کے اس جذبے کو مثبت انداز میں لیا جانا چاہیئے اور اگر کوئی بڑی پیشرفت نہ بھی ہو تو چھوٹے پیمانے پر باہمی روابط کو بہتر بنانا چاہیئے، تاکہ بڑے مسائل کے حل کے لیے حالات سازگار ہوں۔

تحریر: سید اسد عباس

یہ بھی دیکھیں

شہید حاج قاسم سلیمانی کی شخصیت کی خصوصیات اور انکی فکری و نظریاتی جہتیں

إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ۚ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ …