بدھ , 29 ستمبر 2021

سردشت سویلین کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی علامت ہے: جواد ظریف

تہران: ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ سردشت پر کیمیائی بمباری کی برسی اور کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے خلاف قومی دن کی مناسبت سے ایک پیغام میں لکھاکہ سردشت عصر حاضر میں سویلین اور رہائشی علاقوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی علامت ہے۔

محمد جواد ظریف کے پیغام میں آیا ہے کہ صدام کی حکومت کی جانب سے ایران کے صوبے آذربائیجان غربی کے شہر سردشت پر کیمیائی حملے کی چونتیس سال مکمل ہونے پر میں اس خوفناک واقعے کے متاثرین کو یاد دلاتا ہوں اور اس ناقابل فراموش سانحہ کے جانبازوں کی صحت اور با برکت زندگی کے لئے دعا کرتا ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سردشت جدید دور میں شہریوں اور رہائشی علاقوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی علامت ہے۔

26 جون 1987میں عراق کا ظالم آمر کے حکم کے ذریعے ایران کے مغربی سرحدی شہر ‘سردشت’ پر کیمیائی بمباری نے اس شہر کو دنیا میں مہلک اور کیمیائی ہتھیاروں کے پہلے شکار ہونے والے شہروں کی فہرست میں قرار دیا.
حلبچہ کے کرد علاقے پر کیمیائی بمباری ایک انتہائی خوفناک اور غیر انسانی جرائم میں سے ایک تھا جو 16 مارچ 1988 کو شام میں 2 بجے عراقی حکومت کے ذریعہ ہوا تھا۔ مغربی ممالک نے صدام کی حکومت کو کیمیائی ہتھیار فراہم کیے تھے۔ یہ جرم مغربی رہنماؤں کی خاموشی سے ہوا تھا جسے ان کے اتحادیوں نے اطمینان کی علامت کے طور پر دیکھا تھا۔
صدام حکومت کے سب سے بڑے جرائم میں سے ایک ایرانی شہر سردشت پر حملہ تھا جس میں متعدد شہری شہید اور 8،000 دیگر کو زہریلی گیس کا سامنا ہوا تھا۔ اس واقعے کے بعد صدام کی حمایت کرنے والی عالمی برادری اور مغربی حکومتوں کی خاموشی نے عراقی حکومت کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا استعمال جاری رکھنے پر مجبور کیا اور اس کے بعد سے ایران اور عراق کے متعدد علاقوں پر مسلسل حملہ کیا۔

یہ بھی دیکھیں

ایرانی و ہندوستانی وزرائے خارجہ کی ملاقات، باہمی تعاون کے مزید فروغ کے لئے پر عزم

نیویارک: اسلامی جمہوریہ ایران اور ہندوستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل …