اتوار , 28 فروری 2021

سعودی عرب کا یمن کے خلاف ممنوعہ کلسٹر بموں کا استعمال

یمن کے مختلف علاقوں پر سعودی جنگی طیاروں کی بمباری کا سلسلہ پیر کو بھی جاری رہا۔ یمنی ذرائع نے بتایا ہیکہ سعودی جنگی سعودی عرب کا یمن کے خلاف ممنوعہ کلسٹر بموں کا استعمالطیاروں نے پیر کو صوبہ صعدہ کے علاقے سحار پر کلسٹر بم گرائے ہیں۔ سعودی جنگی طیاروں نے پیر کو اسی طرح صوبہ صعدہ کے غمر اور القماش نامی علاقوں پر بھی کئی بار بمباری کی۔
اس رپورٹ کے مطابق صوبہ مارب کے شہر صرواح میں سعودی جنگی طیاروں کی بمباری سے ایک مسجد اور کئی رہائشی مکانات منہدم ہو گئے۔ صوبہ صنعا کے مختلف علاقوں پر بھی سعودی حکومت اور اس کے اتحادیوں نے بمباری کی ہے۔ پیر کے دن بھی سعودی حکومت اور اس کے اتحادیوں کی وحشیانہ بمباری میں متعدد یمنی شہری شہید اور زخمی ہو گئے ۔
دوسری طرف یمن کے انسانی حقوق کے مرکز نے عالمی برادری سے یمن کے شہریوں کے خلاف جارحیت میں ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال کا نوٹس لئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یمن کے انسانی حقوق کے مرکز نے عالمی برداری سے مطالبہ کیا ہے کہ یہ پتہ لگایا جائے کہ سعودی حکومت کو ممنوعہ اسلحے کون دے رہا ہے۔
ادھر یمن کے فوجیوں اور عوامی رضاکار وں نے اپنے جوابی حملوں میں پیر کو بھی سعودی فوج کو جانی اور مالی نقصان پہنچایا ہے۔ المسیرہ کے مطابق سعودی حکومت کے متعدد سرحدی فوجی مراکز اور چوکیاں یمن کے میزائلی حملوں اور گولہ باری کا نشانہ بنی ہیں۔
اسی کے ساتھ صوبہ تعز میں یمن کی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے ایک آپریشن میں مفرور سابق صدر منصور ہادی کے طرفدار اور سعودی حکومت کے حمایت یافتہ بہت سے دہشت گردوں کے مارے جانے کی خبر ہے۔ المسیرہ نے بتایا ہے کہ تعز میں یمنی جوانوں کے ہاتھوں اپنے زرخریدوں کی شکست کے بعد سعودی حکومت کے اپاچی جنگی ہیلی کاپٹروں نے تعز کی العمری فوجی چھاونی پر کء بار حملہ کیا۔
اس رپورٹ کے مطابق تعز میں یمن کے فوجیوں اور عوامی رضاکاروں نے الجحملیہ کی جانب سعودی زرخریدوں کی پیش قدمی روک دی ہے ۔ اس رپورٹ کے مطابق تعز میں سیکورٹی فورس کے ہیڈکواٹر اور صدارتی محل میں سعودی زرخریدوں سے یمن کے فوجیوں اور عوامی رضاکاروں کی شدید لڑائی ہوئی ہے ۔ اس لڑائی میں سعودی حکومت کے حمایت یافتہ دہشت گردوں اور منصور ہادی کے طرفداروں کو سنگین جانی اور مالی نقصان پہنچا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق قطعبہ نامی علاقے میں القاعدہ کے خلاف یمن کی فوج اور عوامی رضاکاروں کی کارروائیوں میں القاعدہ اور داعش کے بہت سے دہشت گرد مارے گئے جن میں ایک دہشت گرد کمانڈر صالح مسعد ریشان بھی شامل ہے۔ یمن کے فوجیوں اورعوامی رضاکاروں نے اسی طرح اب اور الضالع کے درمیان واقع شہر دمت کو القاعدہ کے عناصر سے پاک کرکے پوری طرح اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ دمت میں بھی القاعدہ کے ایک کمانڈر نایف الجماعی سمیت بہت سے تکفیری دہشت گرد مارے گئے

یہ بھی دیکھیں

شام پر حملہ کرنے والے اسرائیلی میزائل تباہ

شامی فوج نے صوبہ حماہ کی فضا میں اسرائیل کے میزائلی حملوں کو ناکام بنا …