پیر , 9 دسمبر 2019

بہت ہوگیا!شیخ زکزاکی کے صاحبزادے محمد زکزاکی کا ایک خط

thumb2_116036

نائیجریا میں زیر حراست شیعہ عالم دین شیخ ابراہیم زکزاکی کے صاحبزادے نے اپنے ایک کھلے خط میں کہا ہے کہ ’’میں اپنی بچپن کی یادیں کبھی بھول نہیں سکتا،ہاں یہ میری ذاتی زندگی کی باتیں تو ہیں اور میں ان باتوں کو دوسروں کے ساتھ شیئر نہیں کرنا چاہتا تھا،مگر مجھے اس بات کا احساس ہورہا ہے کہ بہتری اس امر میں ہے کہ میں ان باتوں کو نشرکروں کیونکہ میں جینے کی وجہ سمیت سب کچھ ہارگیا ہوں،ان کا مزید کہنا تھا کہ میں ان سب کو دعوت دیتا ہوں جو عد ل و انصاف پر یقین رکھتے ہیں کہ میری جدوجہد میں شامل ہوجائیں،محمد زکزاکی کے خط میں لکھا ہے ’’میں محمد ابراہیم جو اپنے دوستوں میں ابراہیم اور بہت سے دوسرے ناموں سے جانا جاتا ہوں ،6 سال کی عمر میں اپنے گھر میں چوہے مارا کرتا تھا،چوہے مارنے کا یہ موذی تجربہ میں بھول نہیں سکتا،میں اپنے آپ کو مجرم محسوص کیے بغیر کسی چیز کو مارنے کا سوچ بھی نہیں سکتا،چاہے وہ مچھر سے بھی بڑا کیوں نہ ہو،مگر اسلحہ سے لیس لوگوں نےمیرے سارے بھائیوں کو ذبح کر دیا اور ان سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین ،دوست احباب،بوڑھے اور جوانو ں کو قتل کر دیا،یوں جیسا کہ کچھ ہوا ہی نہیں،جس فوج نے ہماری حفاظت کرنا تھی اس فوج نے ان سب کو وحشیانہ طریقے سے مارڈالا،کچھ روز قبل صوبہ کا ڈونا کی حکومت نے جو تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ نائجیرین فوج کے ہاتھوں ہونے والے قتل عام کے نتیجے میں 1000 سے زائد افراد لاپتہ ہوگئے ہیں،جبکہ 340 افراد کو اجتماعی قبر میں دفن کیا گیا ،جبکہ دیگر سینکڑوں کو گرفتار کیا گیا ،اس کے علاوہ کروڑوں کی جائیداد نیست و نابود کر دی گئی،کمیٹی میں اسلامی تحریک کا کوئی ایک فرد بھی شامل نہیں مگر میں اس کمیٹی سے نکلنے والے نتائج کو دیکھتا رہوں گا،خاص طور پر کہ یہ کمیٹی اس قتل عام کی تحقیقات کی بجائے آہستہ آہستہ اسے فرقہ واریت کا رنگ دینا چاہتی ہے،جنرل سروسز سیکشن یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ میرے والد صاحب زخمی ہونے کی وجہ سے بچائو کی جیل میں ہے اور سرکاری وکلاء کے مطابق حکومت پر فرض ہے کہ زخمی شہریوں کی دیکھ بحال کریں،سب سے بد تر تو یہ ہے کہ جنرل سروسز سیکشن اس بات کا ادعاء کر رہا ہے کہ میرے والد صاحب کی دیکھ بحال کے لئے وہ 5 ملین نایرا(نائجیرین کرنسی) خرچ کر رہے ہیں،بے گناہوں کے قتل عام کے مناظر نہیں دیکھ سکتا،جن میں میرے تینوں بھائی بھی شامل تھے اور میرے والدین جیل میں ناہوتے ہوئےبھی سکون سے زندگی بسر نہیں کر پارہے ہیں۔نائجیرین آرمی نے گزشتہ 8 مہینوں میں ہزاروں بے گناہوں کا قتل کیاجن میں میرے بھائی ،پھوپھی اور دیگر بہت سے رشتہ دار شامل ہیں،میری والدہ پر سات مرتبہ گولیاں چلائی گئیں،والد صاحب کی ایک آنکھ ضائع ہوچکی ہے جبکہ ان کا ایک بازو اور ایک ٹانگ مفلوج ہوچکے ہے ،میرے والد ین ان حالات میں نہ کوئی طبی مشورہ حاصل کر پارہے ہیں اور نہ ہی کوئی قانونی مشورہ جبکہ جنرل سروسز سیکشن کا ادارہ یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ میرے والدین کی حمایت اور حفاظت کر رہا ہے،حکام نے ہمارے خلاف میڈایا پر بد ترین قسم کا پروپیگنڈا کیا اور ہمیں گالی گلوچ کے ذریعے بے عزت کیا،یہی جنرل سروسز سیکشن کے ادارے نے والدین کی طبی معائنے کی میری درخواست کو ماننے سے انکار کر دیا،یہاں تک کہ میں اپنے والدین سے آخری آٹھ ماہ میں صرف چار بار ملاقات کر سکاہوں،اگر سرکاری وکلاءیہ کہہ رہے ہیں کہ وہ میرے والد کی حفاظت کرر ہے ہیں تو میں ان سے کچھ سوالات کے جوابات چاہتا ہوں،میرا اپنے گھر والوں سے ملنے پر کون سے خطرات پیدا ہوسکتے ہیں؟ڈاکٹر کو ملنے سے کون سا خطرہ پیدا ہوگا؟میرے والد کا وکیل سے ملنے پر کون سا خطرہ ہوسکتا ہے؟ میرے والد صاحب کی طبیعت بہت ہی ناساز ہے اور ان کی بینائی ختم ہونے کا خطرہ ہے تو پھر انہیں کسی ڈاکٹر سے معائنہ کیوں نہیں کرنے دیا جاتا؟بے شک میں اتنی زیادہ نفرت اور وحشیت کے آگے کمزور ہوں مگر میرے پاس ایک چارہ تو ہے اور وہ ہے احتجاج،میں ان تمام لوگوں کو دعوت دیتا ہوں جو اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ عدل و انصاف اور عزت کی زندگی ہر انسان کا حق ہے کہ وہ میرے ساتھ اس جدوجہد میں شامل ہوں،ہمیں ان ہونے والے مظالم کے خلاف احتجاج کرنا ہوگا جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے،ہمیں اپنی آواز سب کو سنانی ہوگی،ہمیں وقت گزرنے سے پہلے کچھ کرنا ہوگا،میں اپنے والد کے گھر سے قدموں پر نکل رہا ہوں اور ابوجا تک جائوں گا اور کھانا پینا چھوڑ دوں گا،وقت کم ہے اور خدا میری بات کا گواہ ہے کہ میرے والد کے لئے ڈاکٹر تک پہنچنا بہت ضروری ہے ابھی !ہاں ابھی خدا میری بات کا گواہ ہے کہ میرے والد صاحب کا اس واقعے سے بچ نکلنے کے بعد اب تھک چکے ہیں اور نابینا ہونے والے ہیں اور آہستہ آہستہ معذوری ان کے جسم میں بڑھتی جارہی ہے ،بس بہت ہوگیا۔۔۔!ہمیں ان کے لئے ڈاکٹر بھیجنے دو ہمیں میرے والد کی آنکھ بچانے دو۔۔۔۔محمد ابراہیم زکزاکی
بشکریہ الوقت نیوز

یہ بھی دیکھیں

اسلامک ملٹری الائنس سعودی بادشاہت کو بچانے کیلئے بنایا گیا اسکا اسلام یا اسلامی ممالک سے کوئی تعلق نہیں، مولانا محمد اجمل قادری 

اسلامک ملٹری الائنس سعودی بادشاہت کو بچانے کیلئے بنایا گیا اسکا اسلام یا اسلامی ممالک …