جمعرات , 4 مارچ 2021

ترکی کا عراق سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا اعلان

ترکی نے عراق سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا اعلان کر دیا۔ امریکی صدر باراک اوباما نے گذشتہ روز ترکی سے فوج واپس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ترک وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ترکی نے شمالی عراق سے اپنی فوجیوں کی واپسی کا عمل شروع کر دیا ہے اور موصل میں تعینات ترک فوجیوں کو پہلے ہی واپس بلا لیا گیا ہے۔ معاملے کی سنجیدگی کے باعث ترک فوجیوں کی واپسی کا عمل جاری رہے گا۔ شمالی عراق میں تقریبا ڈیڑھ سو ترک فوجی اہلکار تعینات ہیں، جو عراقی سکیورٹی فورسز کو تربیت فراہم کرنے کے بہانے وہاں پر موجود ہیں، تاہم عراق نے ترکی سے اپنی فوج واپس بلانے کا مطالبہ کیا تھا اور اس معاملے پر ترکی اور عراق کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہوگئے تھے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے گذشتہ روز ترک ہم منصب طیب اردوان کو ٹیلی فون کرکے فوج واپس بلانے اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی تھی۔دیگر ذرائع کے مطابق ترک وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق عراقی حکومت کے خدشات کے پیش نظر اس کے شمالی علاقوں اور صوبہ موصل سے ترک افواج کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر بارک اوباما نے دو روز قبل ترک صدر رجب طیب اردوان سے ٹیلی فونک گفتگو میں کشیدگی کم کرنے کے لئے عراق سے افواج واپس بلانے پر زور دیا تھا۔ انہوں نے رجب طیب اردوان سے مزید کہا تھا کہ ترکی کو عراق کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنا چاہیئے۔ عراقی حکومت نے بھی ایک ہفتہ قبل ترکی سے اپنی افواج کے مکمل انخلا کا مطالبہ کیا تھا۔ عراق نے ترک افواج کی تعیناتی کو اس کے معاملات میں دراندازی قرار دیا، تاہم ترک حکومت کا موقف تھا کہ فوج دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف عراقی فورسز کے ساتھ لڑنے والے ترک ٹرینرز کی حفاظت کے لئے تعینات کی گئی ہے۔ خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے ترکی کے سینیئر حکام نے کہا تھا کہ ترکی نے موصل کے قریب بشیقہ کیمپ میں اپنے ملٹری ٹرینرز کی حفاظت کے لئے 150 سے 300 فوجی اور 20 ٹینکس تعینات کئے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

شام پر حملہ کرنے والے اسرائیلی میزائل تباہ

شامی فوج نے صوبہ حماہ کی فضا میں اسرائیل کے میزائلی حملوں کو ناکام بنا …