جمعرات , 25 فروری 2021

امریکی ویزے کی تبدیلی مجھے بھی متاثر کرے گی؟

امریکی ویزا سے استثنا کے پروگرام میں تبدیلی ہو رہی ہے جس سے یورپی یونین کے بہت سے شہری متاثر ہوں گے خصوصا وہ جن کا تعلق مشرقِ وسطی سے ہے۔ کیا آپ بھی اس تبدیلی سے متاثر ہو سکتے ہیں؟
قانون موثر ہونے کے بعد کیا تبدیلیاں ہوں گی؟استثنا کے پروگرام کے تحت اڑتیس ممالک کے باشندوں یا شہریوں کو جن میں زیادہ تر یورپی یونین کے شہری ہوتے تھے، امریکہ جانے کے لیے نوے دن تک ویزا کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔اس پروگرام کی شرائط پوری کرنے والوں کو سفر سے پہلے اب بھی الیکٹرونک فارم بھرنا پڑے گا جس کے تحت اجازت کا اطلاق دو سال تک رہتا ہے۔
نئے قانون کے تحت وہ لوگ جن الیکٹرونک فارم بھر کے سفری اجازت ملتی تھی، اگر وہ عراق، شام یا سوڈان کی دوہری شہریت بھی رکھتے ہیں یا گزشتہ پانچ سال میں ان ملکوں میں گئے ہیں انھیں تبدیلوں کا سامنا ہوگا۔ان افراد کو ویزا کی درخواست دینی ہوگی۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ جنھیں ویزا کی درخواست دینی ہوگی کیا انھیں الیکٹرونک فارم بھر کے بھی اجازت درکار ہوگی اور یہ کہ اس اجازت کا دورانیہ کتنا ہوگا۔
ویزا پروگرام کیسے کام کرے گا؟نیا قانون دو ہزار سولہ میں عمل میں آ جائے گا۔ امریکہ کے محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے اس کا کوئی وقت متعین نہیں کیا۔ عام طور پر نئے قوانین پر نظرِ ثانی بھی کی جاتی ہے۔
قانون کا اطلاق ہونے کے بعد متاثر ہونے والوں کو امریکی سفارت خانے جا کر درخواست دینا ہوگی جس میں ان کا انٹرویو بھی لیا جا سکتا ہے۔
فی الحال لندن میں ویزا کی درخواست کے لیے اپوائنٹمینٹ چار دن میں مل جاتی ہے۔ کسے کب ویزا دیا جائے گا اس کا فیصلہ ہر درخواست پر انفرادی طور پر کیا جاتا ہے لیکن اس میں ایک سے سات دن لگ سکتے ہیں۔کیا مجھے ہر بار امریکہ جانے کے لیے درخواست دینا ہوگی؟اچھی خبر یہ ہو سکتی ہے کہ بہت سے درخواست دہندگان کو بار بار سفارت خانے جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ برطانوی شہریت کے حامل وہ درخواست گزار جو ساتھ ساتھ کسی اور ملک کے شہری بھی ہیں، مثال کے طور پر وہ اگر سیر و تفریح یا کاروباری مقصد کے لیے درخواست دیں تو اس ویزے کی مدت دس سال اور فیس ایک سو ساٹھ ڈالر ہوسکتی ہے۔
لیکن ویزا کتنی مدت تک کا ہوگا اس کا فیصلہ قونصلر افسرایک انٹرویو اور پس منظر کی پڑتال کے بعد کرے گا۔سب سے زیادہ متاثر کون ہوگا؟خاص پیشوں سے تعلق رکھنے والوں مثلا صحافیوں اور فن کا مظاہرہ کرنے والوں کو پہلے ہے علیحدہ سے ویزا لینا پڑتا ہے۔ کام کرنے کی غرض سے کام کے لیے مخصوص ویزا چاہیے ہوتا ہے۔ لیکن اب کام اور اس سے متعلقہ میٹنگز کے لیے ویزا حاصل کرنے والے متاثر ہوں گے، خصوصا وہ جو آتے جاتے ہیں۔ خاص طور پر حال ہی میں ایران آنے جانے والوں کے لیے مشکل ہوگی کیونکہ ایران کے جوہری معاہدے کے بعد ان کے لیے مواقع زیاد بڑھ گئے ہیں۔اس نئے قوانین پر ایران نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن امریکہ کے سیکریٹری خارجہ جون کیری نے ایران کے وزیرِ خارجہ کے نام خط میں کہا ہے کہ زیادہ وسیع نوعیت کے ویزے بھی جاری کیے جا سکتے ہیں۔اگر میں امریکی ہونے کے ساتھ ساتھ دوہری شہریت رکھتا ہوں تو پھر کیا ہوگا؟
اگر آپ کے پاس امریکی پاسپورٹ ہے اور آپ ان ملکوں میں گئے ہیں جن کا فہرست میں ذکر ہے یا ان میں سے کسی ملک کے دوہرے شہری بھی ہیں تو آپ کو ویزا کی ضرورت نہیں ہوگی۔

یہ بھی دیکھیں

شام پر حملہ کرنے والے اسرائیلی میزائل تباہ

شامی فوج نے صوبہ حماہ کی فضا میں اسرائیل کے میزائلی حملوں کو ناکام بنا …