ہفتہ , 23 نومبر 2019

ایرانی صدر کی اصلاح پسند امیدواروں پر ’پابندی‘ پر تنقید

160117144741_hassan_rouhani_624x351_tasnim_nocredit

ایران کے صدر حسن روحانی نے آئندہ ماہ منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں امیدواروں کی جانچ پڑتال کرنے والی کمیٹی سے کہا ہے کہ وہ اصلاح پسند امیدواروں کی زیادہ تعداد کو حصہ لینے کی اجازت دے۔

ٹی وی پر تقریر میں ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ پارلیمان ’لوگوں کا ایوان‘ ہے اور کسی مخصوص گروہ کے لیے نہیں ہے۔

انھوں نے اس کے ساتھ ساتھ خبردار بھی کیا ہے کہ اگر حریف یا مدِمقابل ہی نہ ہوئے تو انتخابات بےمقصد ہوں گے۔

صدر حسن روحانی نے اپنی تقریر میں زور دیا کہ انتخابات کے دوران صحت مندانہ مقابلہ ہونا چاہیے۔

’ہمیں لازمی امید، جوش و جذبہ اور مقابلے کی فضا قائم کرنی چاہیے، اگر صرف ایک ہی سیاسی فریق ہو گا اور دیگر نہیں ہوں گے تو انھیں 26 فروری کے انتخاب کی ضرورت نہیں، وہ پارلیمان میں چلے جائیں لیکن کوئی بھی اہلکار عوام کے ووٹ کے بغیر قانونی نہیں ہو گا۔‘

صدر روحانی کے مطابق انھوں نے گارڈین کونسل یعنی شورائے نگہبان کی جانب سے امیداروں کی نااہلیوں کے معاملے پر بات چیت کے لیے نائب صدر احسن جہانگیری کو ذمہ داری سونپ دی ہے۔

جمعرات کو ایرانی صدر کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب ایک دن پہلے ہی نو گروپوں نے کہا ہے کہ امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینے والی شورائے نگہبان نے درخواست دہندگان میں سے صرف ایک فیصد اصلاح پسند امیدواروں کے ناموں کی منظوری دی ہے۔

اس کمیٹی کی جانب سے زیادہ تر کو اس وجہ سے نااہل قرار دیا گیا کہ وہ قابل ذکر حد تک موجودہ حکومتی نظام سے وفادار نہیں ہیں۔

اس کمیٹی میں قدامت پسند اکثریتی پارلیمان کی جانب سے منتخب کردہ چھ جج اور رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی جانب سے نامزد کردہ چھ مذہبی رہنما شامل ہیں۔

تقریباً 12 ہزار افراد نے 26 فروری کو منعقد ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے درخواست دی تھی۔ ان انتخابات میں پارلیمان کے 290 ارکان اور ماہرین کی اسمبلی کے 88 ارکان کا انتخاب کیا جائے گا۔

شورائے نگہبان کی جانب سے مسترد کیے جانے والے 7300 امیدواروں میں کچھ قدامت پسند بھی شامل ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایرانی قوم کے دشمنوں کی ملک میں فتنہ اور فساد برپا کرنے کی کوشش

قم: قم میں مرجع آیت اللہ سید محمد علی علوی نے ایرانی عوام کو دشمن …