اتوار , 28 فروری 2021

داعش کے خلاف جنگ کے لئے اردوغان کی شرط

ترکی کے صدر نے اعلان کیا ہے کہ اگر شام کے صدر بشار اسد اقتدار میں باقی رہیں گے تو انقرہ ، داعش کے خلاف جنگ نہیں کر سکتا-انقرہ سے اسپوٹنیک نیوز کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے سنیچر کی رات کہا کہ شام، عراق ، ایران اور روس نے داعش دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے لئے ایک رابطہ اسٹاف تشکیل دیا ہے اور ہم سے کہا ہے کہ ان کے ساتھ شامل ہو جائیں لیکن ہم نے ان سے کہہ دیا ہے کہ جب تک بشار اسد شام کے صدر رہیں گے اس وقت تک ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں کر سکتے- رجب طیب اردوغان نے ایک بار پھر دعوی کیا کہ عراق میں تعینات ٹرینر فوجی بغداد کی درخواست پر اس ملک میں داخل ہوئے ہیں اور ان کی ذمہ داری ان فورسز کو ٹریننگ دینا ہے جو دہشت گردوں سے بر سرپیکار ہیں- اردوغان نے ترکی کی فوج ، عراق میں داخل ہونے پر عراقی حکومت کے اعتراض کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ترکی نے دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے لئے عراق میں فوج بھیجی ہے- ترکی نے دسمبر کے اوائل میں عراقی حکومت کی اجازت کے بغیر صوبہ موصل کی بعشیقہ فوجی چھاونی میں اپنے فوجی تعینات کر دیئے جس پر عراقی عوام اور حکام نے سخت احتجاج کیا ہے- عرب لیگ نے گذشتہ ہفتے ایک ہنگامی اجلاس میں جو عراقی حکومت کی درخواست پر بلایا گیا تھا ، ترکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عراق سے اپنے فوجیوں کو بلا قید و شرط ، فورا باہر نکال لے-

یہ بھی دیکھیں

شام پر حملہ کرنے والے اسرائیلی میزائل تباہ

شامی فوج نے صوبہ حماہ کی فضا میں اسرائیل کے میزائلی حملوں کو ناکام بنا …