پیر , 1 مارچ 2021

روسی فوج نے ترکی کے سرحدی علاقے میں داعش کے ہزاروں آئل ٹینکروں کا پتہ لگا لیا

روسی فوج نے ترکی کی سرحد کے قریب کھڑے داعش کے ہزاروں آئل ٹینکروں کا پتہ لگایا ہیروسی فوج کے مشترکہ کمانڈ سینٹر کے سربراہ سرگئی رودس کوئے، نے کہا ہے کہ فضا سے لی جانے والی تصاویر میں ، داعش کے ہاتھوں چوری ہونے والے تیل سے لدے گیارہ ہزار سات سو پچھتر آئل ٹینکر ، عراق ترکی سرحد کی دونوں جانب کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ داعش چوری کے تیل کو ترکی اسمگل کرنے کے لیے عراقی کردستان کے علاقے زاخو میں منتقل کرتا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق داعش ، روسی حملوں سے بچنے کے لیے تیل کی اسمگلنگ کے روٹ میں تبدیلی کرتا رہتا ہے لیکن یہ تمام آئل ٹینکر آخر کار سارا تیل ترکی ہی پہنچاتے ہیں۔روسی عہدیدار نے مزید کہا کہ شام میں داعش کے ٹھکانوں پر روسی فضائیہ کے حملوں میں اب تک تقریبا دوہزار ایسے ٹینکروں کو تباہ کیا جاچکا ہے جو داعش کا چوری کردہ تیل اسمگل کر رہے تھے۔ روس نے تیس ستمبر سے شامی حکومت کی درخواست پر عالمی قوانین کے مطابق شام میں دہشت گردوں کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا۔دوسری جانب ایک عراقی عہدیدار نے الزام لگایا ہے کہ ترکی داعش کو مسلسل افرادی قوت فراہم کر رہا ہے۔ البدر تنظیم کے ترجمان کریم النور نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ترکی کی جانب سے داعش کے لئے مدد کی فراہمی کے کھلے ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکی نے داعش کے دہشت گردوں کو سرحد پار کرنے کی اجازت دے رکھی ہے اور ترکی کے ہوائی اڈوں اور اسپتالوں میں داعش کے عناصر کو تمام سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔عراق کے مذکورہ فوجی عہدیدار نے کہا کہ ازبکستان، چیچن اور دیگر علاقوں سے داعش کے دہشت گرد ترکی کے ذریعے عراق اور شام میں داخل ہوتے ہیں۔ کریم النور نے واضح کیا کہ اس بات کے بہت سے شواہد موجود ہیں کہ ترکی داعش کو بھرپور لاجسٹک سپورٹ فراہم کررہا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ترکی کے علاوہ سعودی عرب اور قطر بھی پچھلے کئی برسوں سے داعش کے دہشت گردوں کی بھرپور مالی اور اسلحہ جاتی حمایت کر تے چلے آرہے ہیں۔ داعش اور ترکی کے درمیان خصوصی تعلقات کا انکشاف ایسے وقت میں ہوا ہے جب عراق میں بھی ترکی کے مداخلت پسندانہ اقدامات کی زبردست مخالفت کی جارہی ہے۔ نجف اشرف کے امام جمعہ صدر الدین قبانچی نے نماز جمعہ کے خطبوں میں ، عالمی برادری اور عراق کی مخالفت کے باجود ترکی کی جانب سے اپنے فوجیوں کو عراق میں باقی رکھنے پر اصرار کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراقی سرزمین پر ترکی کی جارحیت ، داعش دہشت گرد گروہ کی شکست اور عالمی سیاسی عدم استحکام کی علامت ہے۔سید صدرالدین قبانچی نے مزید کہا کہ شمالی عراق کے صوبے نینوا کے مرکز کو ترکی میں ضم کرنے کی انقرہ کی کوششیں ناکام ہوں گی۔انہوں نے کہاکہ دنیا کے مختلف ملکوں کی جانب سے دہشت گردوں کی کھلی اور بھرپور حمایت کے باوجود ،عراقی فوج اور عوامی رضاکاروں کے مقابلے میں دہشت گردوں کے حوصلے پست ہوگئے ہیں اور ان میں مقابلے کی سکت باقی نہیں بچی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

شام پر حملہ کرنے والے اسرائیلی میزائل تباہ

شامی فوج نے صوبہ حماہ کی فضا میں اسرائیل کے میزائلی حملوں کو ناکام بنا …