بدھ , 13 نومبر 2019

ترک حکومت نے تعلیمی اداروں سے 27 ہزار ملازمین کو برطرف کردیا

emergency

استنبول(مانٹیرنگ ڈیسک ) ترکی نے ملک بھر کے تعلیمی اداروں سے 27 ہزار سے زائد ملازمین کو برطرف کر دیا اور ان کے ملازمت کے اجازت نامے بھی منسوخ کر دیے۔ ترک حکام نے ان تمام افراد کو 15 جولائی کو فوج کے ایک دھڑے کی جانب سے ہونے والی بغاوت کی ناکام کوشش میں ملوث ہونے کا الزام عائد کر کے برطرف کیا اور اب انہیں کسی بھی سرکاری یا نجی تعلیمی ادارے میں نوکری نہیں ملے گی۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ترک وزیر تعلیم عصمت یلماز نے بتایا کہ یہ تمام افراد ان تعلیمی اداروں اور اسکولز میں ملازمت کرتے تھے جنہیں حکومت متوازی ریاستی اسٹرکچر سمجھتی ہے۔ ترکی نے بغاوت کی کوشش کا ذمہ دار امریکا میں خود ساختہ جلا وطنی کاٹنے والے مبلغ فتح اللہ گولن کو ٹھہرایا تھا اور گولن سے وابستہ تنظیموں اور تعلیمی اداروں کے خلاف کریک ڈائون کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ ترک حکام اب تک عدلیہ، سیکیورٹی فورسز اور تعلیم کے شعبے سے وابستہ 60 ہزار کے قریب افراد کو معطل، گرفتار یا برطرف کر چکے ہیں اور ان پر بغاوت کی کوشش میں شامل ہونے اور گولن کے حامی ہونے کے الزمات عائد کیے گئے ہیں۔ ترک حکومت الزام عائد کرتی ہے کہ فتح اللہ گولن کے حامی ہر ریاستی ادارے میں متوازی ڈھانچہ قائم کرچکے ہیں جنہیں ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ سے ڈکٹیشن نہیں لیں گے، عراقی صدر

بغداد: عراق کے صدر نے امریکہ کے مداخلت پسندانہ بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا …