پیر , 24 جون 2019

ایران اور ترکی کے وزرائے خارجہ کی انقرہ میں مشترکہ پریس کانفرنس

4bk8cad387d2a2c25m_800C450

انقرہ (مانٹیرنگ ڈیسک )ایران اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے انقرہ میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران باہمی تعلقات اور اہم علاقائی و بین الاقوامی مسائل کے بارے میں اپنے اپنے ملکوں کے موقف کی وضاحت کی ہے۔جواد ظریف نے جو ایک روزہ دورے پر ترکی گئے ہوئے ہیں، انقرہ میں اپنے ترک ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ترک عوام نے بغاوت کرنے والوں کا مقابلہ کرکے خطے عوام کے لیے قابل فخر کارنامہ انجام دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ خطے کے عوام بغاوتوں یا طاقت کے زور پر جمہوریت اور عوامی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے تہران، انقرہ تعلقات کو مضبوط اور وسیع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور ترکی کے درمیان تعاون کا وسیع میدان موجود ہے اور دونوں ممالک کو باہمی تعلقات کے فروغ کی کوشش کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض رکاوٹیں دور ہونے کی صورت میں ایران اور ترکی کے درمیاں بجلی، گیس، توانائی اور سیاحت کے شعبوں میں تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔جواد ظریف نے کہا کہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے حوالے سے ایران اور ترکی کے نظریات اور اہداف میں اشتراک پایا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بعض اختلافات کے باوجود دونوں ممالک شام کی ارضی سالمیت کے تحفظ اور داعش، جبہۃ النصرہ اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف جنگ کے بارے میں مشترکہ نظریات رکھتے ہیں۔ محمد جواد ظریف نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، انقرہ اور ماسکو کے درمیان تعلقات کی بحالی کا بھی خیر مقدم کرتا ہے۔ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو نے اس موقع کہا کہ ترکی اور ایران کے درمیان مضبوط تعاون کے نتیجے میں شام میں پائیدار امن کے قیام میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ انقرہ اور تہران شام کی ارضی سالمیت کے تحفظ پر یقین رکھتے ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان صلاح ومشورے کے نتیجے شام میں پائیدار جنگ بندی کی کوششوں پر مثبت اثرات پڑیں گے۔مولود چاؤش اوغلو نے یہ بات زور دیکر کہی کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ تجارت کے فروغ میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ترکی اور ایران کے درمیان تجارت کا حجم تیس ارب ڈالر تک پہنچایا جائے۔ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ ملاقات میں اہم علاقائی مسائل، باہمی تعلقات کے فروغ اور توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی ، ایران سے گیس کی خریداری اور ایران کی گیس یورپ تک پہنچانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے خطے میں داعش اور جبہۃ النصرہ جیسے دہشت گرد گروہوں کے خلاف مشترکہ جد وجہد کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ بھی دیکھیں

ایران ہرطرح کی جارحیت کا جواب دینے کے لئے تیار ہے;میجرجنرل غلام علی رشید

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)ایران کی مسلح افواج کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجرجنرل غلام …