پیر , 22 اپریل 2019

برجینسکی نے بھی امریکہ کو ترکی بغاوت میں ملوث قرار دےدیا

[caption id="attachment_40114" align="alignnone" width="300"]Zbigniew Brzezinski, former National Security Adviser under former U.S. President Jimmy Carter, testifies at a Senate Foreign Relations Committee on remaining U.S. policy options in Iraq, Feb. 1, 2007 in Washington, D.C. Photographer: Carol T. Powers/Bloomberg News
[/caption]واشنگٹن(مانٹیرنگ ڈیسک) زبیگینیو برجینسکی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ترکی کی بغاوت میں امریکہ کو ملوث قرار دیا ہے۔انہوں نے لکھا کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران شام کے بحران میں ترکی کی شکست کے بعد ترکی نے اپنی سیاست میں تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا مگر امریکہ نے بغاوت کی حمایت کی اور باغی گروہ کے لیڈر گولن کو پناہ دی اس لیے اگر ترکی امریکہ کی طرف پشت کرے اور اپنے اتحادیوں سے تعلقات پر نظر ثانی کرے تو اسے برا نہیں کہا جائیگا۔روس، ایران اور ترکی کے اتحاد نے شامی بحران کو حل کرنے کا اچھا موقع فراہم کیا ہے۔ اردوغان اگر احمق بھی ہوں تب بھی انہیں یہ یقین ہوگیا ہے کہ چند عقب ماندہ عرب ممالک سے اتحاد کرکے کوئی فائدہ نہیں ملنے والا۔

یہ بھی دیکھیں

کابل: وزارت مواصلات و آئی ٹی کمپاؤنڈ پر حملہ، 3 اہلکاروں سمیت 7 افراد ہلاک

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے درالحکومت کابل میں وزارت مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے کمپاؤنڈ پر …