جمعہ , 19 جولائی 2019

مشاہد حسین سید کی سربراہی میں پاکستانی پارلیمانی وفدترکی پہنچ گیا

n00537794-b

انقرہ (مانٹیرنگ ڈیسک)سی پیک کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹرمشاہد حسین سید کی سربراہی میں 8رکنی آل پارٹیز پارلیمانی وفد بدھ کو ترکی کی پارلیمنٹ اور عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے انقرہ پہنچ گیا، ایئر پورٹ پر ترک پارلیمنٹ کے رکن برہان کایاترک پاکستانی سفیر سہیل محمود ، ڈپٹی ہیڈ آف مشن علی اسد گیلانی اور دیگر اعلیٰ حکام نے پاکستانی وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔وفد میں حکمران اور اپوزیشن کی 8مختلف سیاسی جماعتوں کے سینیٹرز اور رکن پارلیمنٹ شامل ہیں ۔ وفد پانچ روز تک انقرہ اور استنبول میں قیام کرے گا اس دوران پاکستانی وفد ترک صدر رجب طیب اردگان، اسپیکر ترک پارلیمنٹ اسماعیل خرمان ، ترک وزیر داخلہ ، چیئرمین فارن ریلیشن کمیٹی، منسٹر فار جسٹس سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کرے گا۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کا دونوں ایوانوں کی تمام جماعتوں پر مشتمل پارلیمانی وفد ترکی سے اظہار یکجہتی کے لئے پہنچا ہے ۔انہوںنے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان قریبی دوستانہ تعلقات ہیں ، مشکل کی ہر گھڑی میں دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے ۔انہوںنے کہاکہ ناکام بغاوت کی کوشش کے بعد ترک عوام کی طرح پاکستان کے عوام بھی طیب اردگان کی آئینی اور جمہوری منتخب حکومت کی مکمل حمایت کرتے ہیں ۔مشاہد حسین نے کہاکہ وہ اپنے دورے کے دوران پاکستانی عوام کے جذبات ترکی کے عوام تک پہنچائیں گئے ۔انہوںنے کہا کہ پاکستانی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے ترکی کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کے لئے متفقہ قراردادیں منطور کی ہیں ۔ اس موقع پر سینیٹر طلحہ محمود نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکی آکر مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میں اپنے دوسرے گھر آ گیا ہوں ، پاکستانی وفد کے دورے سے پاکستان اور ترکی کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے ۔بعدازاں پاکستانی پارلیمانی وفد نے جدید ترکی کے بانی مصطفی کمال اتاترک کے مقبرے پر حاضری دی ،وہاں پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور مہمانوں کی کتاب میں تاثرات بھی قلمبند کئے۔ مشاہد حسین نے لکھا کہ اتاترک نا صرف ترکی بلکہ پوری مسلم دنیا کے ہیرو تھے ۔انہوں نے برطانوی راج کو شکست دے کر ایک جدید اور خوشحال ترکی کی بنیاد رکھی ۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اتاترک کے بہت زیادہ چاہنے والے تھے اور ان کی وفات پر نومبر1938میں آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے قائداعظم محمد علی جناح نے اتاترک کی وفات کو بہت بڑا نقصان قراردیا اور پورے برصفیر میں قومی سوگ کا اعلان کیا تھا۔وفد نے وہاں میوزیم کا بھی دورہ کیا ۔ترکی میں پاکستان کے سفیر سہیل محمود نے پاکستان کے پارلیمانی وفد کے اعزاز میں استقبالیہ بھی دیا جس میں ترک ارکان اسمبلی بھی شریک ہوئے ۔

یہ بھی دیکھیں

ایران نےامریکا کیساتھ بات چیت کا امکان مسترد کردیا

اقوام متحدہ میں ایرانی ترجمان علی رضا میر یوسفی کا کہنا ہے کہ  امریکا کیساتھ …