اتوار , 17 نومبر 2019

اردن سے کیا توقع کی جائے

25

تسنیم خیالی
ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ اردن میں پناہ لیے ہوئے شامی پناہ گزینوں کے ایک تہائی بچے جو اس وقت تعلیم حاصل کرنے کی عمر میں ہیں مگرتعلیم حاصل نہیں کر پا رہے ۔ ہیومن رائٹس کے مطابق 2 لاکھ 26 ہزار بچوں میںسے 80 ہزار بچے تعلیم حاصل نہیں کر پارہے ، جس پر ہیومن رائٹس نے ادرنی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شامی پناہ گزینوں کے بچوں کومزید تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرے۔ یہ مطالبہ ہیومن رائٹس کی ترتیب شدہ ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بچوں پر بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ اس بات پر زور دیا جا رہاہے کہ وہ ذریعہ معاش کےلیے روزگار کی تلاش کریں، رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال انٹرمیڈیٹ کے اہل 20 ہزار نوجوانوں میں سے صرف5500 انٹرمیڈیٹ میں داخلہ لے کر اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اردن میں کم سن بچوں سے شادی کرنے کے اعداد و شمار میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے، پناہ گزینوںکی آمد سے پہلے اردن میں اس قسم کی شادیاں 12 فیصد ہوا کرتی تھیں جو اب 32 فیصد ہوگئی ہیں، ان شادیوں میں اکثر کم سن لڑکیاں شامی پناہ گزین ہوتی ہیں۔ اردن میںاس وقت اقوام متحدہ کےاعداد و شمار کے مطابق 6.5لاکھ شامی پناہ گزین پناہ لیے ہوئے ہیں جبکہ اردنی عہدے داروں کا کہنا ہےکہ اردن میں اس وقت 13 لاکھ شامی پناہ گزین موجود ہیں۔یہ تھے کچھ حقائق اردن میں مقیم شامی پناہ گزینوں کے جن کا حال اردن میں مقیم فلسطینی پناہ گزینوں جیسا خستہ ہے فرق صرف اتنا ہے کہ فلسطینی پناہ گزین اردن میں کئی عشروں سے رہ رہے ہیں اور شامی پناہ گزین وہاں لگ بھگ 5 سالوں سے رہ رہے ہیں۔ اردنی شاہی حکومت نے فلسطینیوں کو سہولیات فراہم نہیں کیں تو شامیوں کا کیا کرے گی، اردن میں تو خود اردنیوں کے حالات ٹھیک نہیں۔ اردن پر حاکم خاندان ہاشمی ہونےکا تودعوی کرتا ہے مگر اس خاندان میں ہاشمیوں والی کوئی بات ہے ہی نہیں امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کا حریص شاہ عبداللہ دوم نے شام اور عراق کو اس نہج تک پہنچانے میں مرکزی کردار ادا کیا اس وقت داعش ،جبھۃالنصرہ اور دیگر تکفیری تنظیموں کواردن کی بھرپور مدد حاصل ہے۔
اگر ترکی دہشت گردوں کو شمالی علاقوں سے مدد فراہم کررہا ہے تو جنوبی علاقوں سے ان دہشت گردوں کو اردنی مدد حاصل ہے۔ جس طرح ترکی میں شامی پناہ گزینوں کا برا حال ہے، بالکل اُسی طرح اردن میں بھی پناہ گزینوں کا برا حال ہے، شام کی عوام کواس حال پر لانے میں ترکی اور اردن پیش پیش ہیں۔ تو پھر شامی عوام کی مدد اردن سے کس طرح توقع کی جاسکتی ہے۔ شام میں جاری بحران کے کئی پہلو لیے جاسکتے ہیں اور ہر پہلو اپنے آپ میں ایک المیہ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے خاص طور پر پناہ گزینوں کا مسئلہ۔

یہ بھی دیکھیں

مہنگائی میں اضافہ اور حکومت کی ذمہ داریاں

تحریر: طاہر یاسین طاہر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھائو معمول کا معاملہ ہے۔ …