اتوار , 1 نومبر 2020

مصرکے سرکاری ٹی وی کی 8 خواتین میزبان موٹاپے کے باعث معطل

585476-women-1471503731-899-640x480

قاہرہ(مانٹیرنگ ڈیسک ) مصر کے سرکاری نشریاتی ادارے نے اپنی 8 خواتین میزبان کو دبلا ہونے تک معطل کردیا ہے جس کے بعد خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں نے اس فیصلے کے خلاف ہنگامہ کھڑا کردیا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق مصرکے سرکاری نشریاتی ادارے نے اپنی 8 خواتین میزبانوں کو ان کے موٹاپے کے باعث معطل کردیا ہے جب کہ ادارے کی جانب سے خواتین کو ایک ماہ کا وقت دیا ہے تاکہ وہ دوبارہ اسکرین پرآنے سے پہلے دبلی ہو سکیں۔موٹاپے کا شکار خواتین کے خلاف اس فیصلے کے بعد حقوق نسواں کے لیے سرگرم تنظیموں نے احتجاج شروع کر دیا ہے۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ’وومن سنٹر فار گائیڈینس اینڈ لیگل اویئرنیس‘ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے آئین کی خلاف ورزی ہوئی ہے جب کہ یہ بھی خواتین کے خلاف تشدد کی ایک قسم ہے۔دوسری جانب متاثرہ ایک میزبان خاتون کا کہنا تھا لوگ ان کے حالیہ ٹیلی وژن پروگرام دیکھ کر خود ہی فیصلہ کریں کہ کیا وہ واقعی موٹی ہیں اورانھیں کام کرنے سے روکا جانا چاہیے یا نہیں جب کہ دوسری خاتون کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ان کا خاندان کا فی پریشان ہوا ہے تاہم اس معاملے کو اندرونی طورپرحل کرنا چاہیئے تھا۔سوشل میڈیا اورخواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے مختلف اداروں کی تنقید کے بعد بھی مصرکے سرکاری نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ موٹا پے کے باعث کیے جانا والا یہ فیصلہ تبدیل نہیں کیا جائے گا تاہم ان خواتین پریزینٹرز کی تنخواہ سمیت دیگر کسی بھی قسم کی مراعات نہیں روکی جائیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

دنیا کا سب سے بڑا لال بیگ دریافت

سنگاپور کے محققین کو بحر ہند سے ایک ایسا سمندری لال بیگ ملا ہے جس …