ہفتہ , 19 اکتوبر 2019

پاک چائنہ تعلقات کو مانیٹر کیا جا رھا ھے

news-1452754027-2207_large

سبطین شیرازی
پاکستان ایک آزاد،خودمختار عالم اسلام کی پہلی اور دنیا کی ساتویں نیوکلیئر طاقت ہے پاکستان کی یہ شناخت اغیار کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھ رہی ہے اور پاکستان کے حوالے سے مخالف قوتیں کوئی موقع ہاتھوں سے نہیں جانے دیتیں کہ جب وہ پاکستان کے خلاف زہر نہ اگلیں اور پاکستان کو دولخت کرنے، اس کی ترقی کو روکنے اور مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کو کمزور کرنے کے لیے اقدامات نہ کریں۔ مخالفین نے اس ملک کے لیے دہشت گردی سمیت کئی چیلنجز کھڑے کر رکھے ہیں لیکن پاکستان کی بہادر افواج نے دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنا کر اپنی خودمختاری پر کوئی آنچ نہیں آنے دی۔ بھارت اور بعض عالمی طاقتیں پاکستان کی ترقی کو نہیں دیکھ سکتیں اس لیے وہ ہر اُس منصوبے یا معاہدے کے خلاف زبان درازیاں کرتی ہیں، جس سے براہ راست پاکستان کو فائدہ حاصل ہونے کے امکانات ہوں۔ ان طاقتوں نے ہمیشہ پاکستان کے فلاحی منصوبوں کو ثبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے، اس سلسلے میں کالاباغ ڈیم اس کی واضح مثال ہے کالا باغ ڈیم جو دریائے سندھ پر تعمیر ہونا تھا عالمی طاقتوں نے اس منصوبے کو اشو بنا کر پاکستان کے چاروں صوبوں کو اس پر متفق نہیں ہونے دیا اور اس منصوبے کو ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیا گیا اور اب سی پیک منصوبہ عالمی قوتوں کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے اس حوالے سے پاکستان کی سیاسی جماعتوں سے خفیہ ملاقاتیں جاری ہیں، افسوس تو اس بات کا ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں عالمی نرغے میں پھنس کر اُن کی سازشوں کا شکار ہو جاتی ہیں عالمی طاقتیں سی پیک منصوبے کو متنازعہ بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں، اس لیے ہمارا موقف ہے کہ اگر یہ منصوبہ سیاسی حکومتوں کی نگرانی میں رہا تو اس کے پائے تکمیل تک پہنچنے کے آثار کم ہو جائیں گے ۔کچھ قوتیں پاکستان اور چائنہ کے تعلقات سے خائف ہیں اور انہو ں نے ان تعلقات کو مانیٹرنگ کرنا شروع کر دیا ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق بھارت نے امریکہ سے ایک ارب ڈالر کی لاگت سے طویل فاصلے کے چارر سمندری نگرانی کے طیارے ’’پی 8 آئی ‘‘ کی خریداری کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت یہ طیارے جلد ہی سروس میں شامل کر لیے جائیں گے۔ بھارت کے پاس پہلے سے ہی ’’پی 8 آئی ‘‘ طیارے موجودہیں سکیورٹی معاملات کی بھارتی کابینہ کی کمیٹی نے سمندر کی گہرائیوں میں آبدوزوں کو مار گرانے والے طیاروں کی خریداری کے لیے منظوری دی تھی۔ بھارت جہاں پاکستان کی ترقی نہیں دیکھنا چاہتا وہاں وہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ چائنہ دنیا کی پہلی معاشی قوت بن جائے، یہی وجہ ہے کہ وہ پاک چائنہ اقتصادی راہ داری کی بھرپور مخالفت کر رہا ہے لیکن بھارت کو پتہ ہونا چاہیئے کہ پاک فوج نے اس منصوبے کو کامیاب کرنے کے لیے تن من دھن کی بازی لگا دی ہے اور اس منصوبے کی حفاظت کے لیے 10 ہزار جوانوں پر مشتمل ایک دفاعی فورس تشکیل دے دی جا چکی ہے جو اس منصوبے ، چائنی انجینئرز اور افسروں کی حفاظت کرے گی۔کوئٹہ میں بلوچ عمائدین کےایک اجتماع سے پاکستان میں چائنہ کی سفیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اس منصوبے سےگواد ر تجارت اورمعیشت کا مرکز بن جائے گا جو مڈل ایسٹ کو سنٹرل ایسٹ سے ملا دے گایہ بات بھارت کے دل پر خنجر کی طرح چل گئ ۔ یاد رہے کہ اس منصوبے کی حفاظت کے لیے پاک چائنہ مشترکہ کاوشیں جاری ہیں، اس لیے کوئی قوت اس منصوبے کو ناکام نہیں بنا سکتی۔ پاکستانی عوام کو خبردار رہنا چاہیئے کہ اگر کہیں سے اس منصوبے کی مخالفت میں کوئی خبر آتی ہے یا اس کے خلاف کوئی آواز اٹھائی جاتی ہے تو اُسے ملک دشمن عناصر کی آواز سمجھا جائے۔

یہ بھی دیکھیں

نوکریاں دینا حکومت کا کام ہی نہیں

تحریر: طاہر یاسین طاہر حیراں ہوں دل کو روئوں کہ پیٹوں جگر کو میں مقدور …