بدھ , 17 جولائی 2019

اسلام اور عصر حاضر کی ضروریات

islam-in-today-s-world-collection-of-speeches-by-justice-mufti-muhammad-taqi-usmani-8

تحریر:حسنین اشرف ایڈووکیٹ ہائیکورٹ
آج سے چودہ سو سال پہلے جب پیغمبر اکرمؐ نے اعلان نبوت فرمایا تو ساتھ ہی یہ عالمی پیغام بھی دیا کہ ’’اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے‘‘ اس دور کے لوگوں کے ذہنوں میں بہت سے سوالات تھے کہ اسلام آنے والے وقت کی ضروریات کو کس طرح (دن بدن بدلنے والے حالات اور ترقی) پورا کرے گا۔ یا وقت کے ساتھ کس طرح چل پائے گا۔ وہ کون سے اصول ہوں گے؟
مثال کے طور پر دو چیزیں عرض کرتا ہوں، ایک مقام پر پیغمبراکرمؐ نے فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’ہزاروں من لوہا ہوا میں سفر کرے گا‘‘ دوسرا ’’انسان جب اونچائی پر جاتا ہے تو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے‘‘ اس وقت کے لوگوں کے لیے یہ چیز سمجھنا ناممکن تھی کہ کئی من وزنی لوہا ہوا میں کیسے سفر کر سکتا ہے اور پہاڑوں پر رہنے والے لوگ تو تازہ ہوا سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لہٰذا اونچائی پر سانس لینے میں دشواری کیسی، لیکن سائنس کی ترقی نے ثابت کر دیا۔ جیسے آج کے دور میں جہازوں کا سفر اور ایک خاص بلندی سے اوپر آکسیجن کی کمی، با ت کرنے نے کا مقصد یہ ہے کہ آج سے 14 سو سال پہلے بھی اسلام آنے والے وقت کی ضروریات سے آگاہ تھا۔ اور قیامت تک کے مسائل کا حل اسلام کے اندر موجود ہے۔ یہ ہماری کوتاہی اور نالائقی ہے اگر ہم قرآن، احادیث اور پیغمبر اکرمؐ کی زندگی سے اپنی مسائل کا حل نہ نکال سکیں۔ حقیقتاً ’’ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔‘‘
اب میں چند بنیادی اصول اور فرامین آپ کے گوش گزار کرتا ہوں۔
(1)اصول تغیر: آنکھ سے نظر نہ آنا کسی چیز کے نہ ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ فلسفہ کے ماہرین نے کائنات میں حرکت پر بہت سی باتیں کی ہیں، اصولاً اس کائنات کی ماہیت ہی حرکت اور تغیر و تبدل ہے، کچھ لوگ اسی بات کو بنیاد بنا کر کہتے ہیں کہ جب ہر چیز کا اصول تغیر پر ہی ہے تو دین بھی ان چیزوں میں سے ایک ہے، لہٰذا یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ ہمیشہ رہے۔ اس کا جواب مختصراً فارسی کے شعر میں موجود ہے۔
؎ مصطفیٰ را وعدہ داد الطافِ حق
گر بمیری تو نمیرد این سبق
(حق تعالیٰ کے الطاف نے حضرت محمد مصطفےٰ ؐ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ اگر آپؐ وفات پاگئے تو یہ سبق اور درس نہیں مرے گا۔)
(2) انسانی زندگی متغیر ہے(ضروریات زندگی تبدیل ہوتی رہتی ہیں) اس کا جواب بھی فارسی کے چند اشعار میں موجودہے۔
قرنہا بر قرنہا رفت ای حمام دین ھانی برقرار و بر دوام
آب مبدل شد در این جو چند بار عکس آ ں خورشید دائم برقرار
پس بنا یش نیست بر آبی روان بلکہ بر اقطا ر عرض آسمان
ایں فقہا چون بخوم مصنوی است واں کہ بر چرخ معانی مستوی است
’’اے دلیر! صدیوں پر صدیاں بیت گئیں لیکن یہ معانی برقرار ہیں اور دائمی ہیں۔ اس ندی میں پانی کتنی مرتبہ بدل گیا لیکن اس خورشید کا عکس برقرار ہے لہٰذا اس کی بنیاد آبِ رواں پر نہیں بلکہ عرض آسمان کی حدود پر ہے۔ یہ صفات معنوی و روحانی ستاروں کی طرح ہیں اور وہ ہیں چرخِ معانی کی ہم سطح اور اس کے برابر ہیں۔
(3) قرآن مجید میں ہےترجمہ: ’’اور تم سب ان سے مقابلے کے لیے امکانی قوت اور بندھے ہوئے گھوڑوں کا انتظام رکھو۔‘‘ (سورۃ انفال:آیت ،۶۰ )
جدید اسلحہ کی دریافت سے پہلے جنگوں کا زیادہ تر انحصار تیر، تلوار اور گھوڑوں کے استعمال پر تھا جس کے تحت قرآن نے یہ آفاقی اصول بیان کیا۔ اگرچہ آج کے دور میں تیر اندازی، شمشیر زنی اور گھڑ سواری ایک مشغلہ کے طور پر رہ گئے ہیں اور جنگوں میں ان کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے لیکن قرآن کا اصول اپنی جگہ برقرار ہے اور تاقیامت رہے گا۔ (آج کے جدید اسلحہ بشمول ایٹم بم کو ہم دشمن کے مقابلے میں امکانی قوت اور بندھے ہوئے گھوڑوں کی مانند سمجھیں گے۔)
قانون سازی کے اسلامی نظام میں کچھ اور پیش بینیاں(Foresights) موجود ہیں، جنہوں نے اسلامی قوانین میں ایک تحریک اور ڈائنا مزم( Dynamism) پیدا کر دیا ہے۔ قوانین اسلام میں موجود ڈائنامزم کو خود اسلام سے کشف کرنا ہماری اہم ترین ذمے داریوں میں سے ہے اور یہی اس مشکل کا بہترین حل ہے۔ خلاصہ یہ کہ اسلام ایک آفاقی دین ہے جس میں قیامت تک پیش آنے والے مسائل کا حل موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے جدید دور کے مسائل کا حل قرآن، حدیث اور پیغمبر اکرامؐ کی حیات طیبہ اور اُن کے فرامین میں تلاش کریں۔

آج امت مسلمہ جس معاشی و معاشرتی بدحالی، انتشار، خانہ جنگی اور فرقہ وارانہ مسائل میں گھری ہوئی ہے اور UN، IMFامریکہ اور مغربی طاقتوں کی غلام اور آلہ کار بنی ہوئی ہے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ ہم قرآن، احادیث اور سنت پیغمبرؐ کی طرف رجوع کریں۔
(وصلی اللہ علی محمد والہ الطاہرین)

یہ بھی دیکھیں

ایرانی بحریہ بہترین ہے، امریکی جنرل کا اعتراف

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)ایک اعلی امریکی فوجی کمانڈر نے اعتراف کیا ہے کہ ایرانی بحریہ خطے …