بدھ , 22 مئی 2019

العربیہ ٹی وی چینل اور گولن کی وجہ سے ترکی اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی

fe752cc8-a18f-4a7a-872e-9e4b974958bb_16x9_600x338

انقرہ(مانٹیرنگ ڈیسک )ترکی کےصدر رجب طیب اردگان کے مشیروں میں سے ایک نے سعودی عرب کے زیرکنڑول عربی نیوز ٹی وی چینل العربیہ کو امریکہ میں مقیم ترک اپوزیشن رہنما فتح اللہ گولن کے انٹرویو کو نشر کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس انٹرویو کو ترکی کے خلاف پراپیگنڈہ قرار دیتے ہوئے دہشت گردی کی حمایت تصور کیا ہے۔ ترک مشیر نے اس حوالے سے اس بات کی تاکید نہیں کی کہ ترک حکومت نے سرکاری طور اس انٹرویو کے حوالے سعودی عرب سے کوئی اعتراض کیا ہو۔یاد رہے کہ ترکی فتح اللہ گولن کو گذشتہ جولائی میں ہونے والے ناکام فوجی انقلاب کا ذمہ دار ٹھراتاہے اور حکومت نے اس حوالے سے امریکہ سے گولن کی حوالگی کا بھی مطالبہ کیا ہے جس پر امریکہ نے تاحال کوئی جواب پیش نہیں کیا۔

یہ بھی دیکھیں

سرمایہ کاری کے بدلے قومی امنگوں کا سودا نہیں کریں گے، فلسطینی وزیراعظم

مقبوضہ بیت المقدس (مانیٹرنگ ڈیسک)فلسطین کے وزیر اعظم نے ایک بار پھر ناپاک امریکی سینچری …