جمعرات , 23 مئی 2019

مفتی اعظم کے فتوے کے پیچھے سازش بے نقاب

mufti-azam-1

(سبطین شیرازی)
اسلام کی طرف بڑھتا ہوا عالمی رجحان اور مذھب حقہ کا بڑھتا ہوا اثر رسوخ اور تاریخ اسلام میں دنیا کے مستقبل کے حوالے سے اسلام کی بالادستی اور غلبہ کی باتیں اور قرآن مجید کے اس طرف  واضح اشارے عالمی طاغوت کو پریشان کیے ہوئے ہیں۔ ان کی مجبوری یہ ہے کہ وہ اس دین کو اختیار تو کر سکتے نہیں البتہ اس کے برعکس وہ لوگوں کی اسلام کی طرف اس رغبت کو کم کرنے اور اسلام کو مسلمانوں کے درمیان ایک منتازعہ دین بنانےکی کوششوں میں مصروف ہے۔ اسلام میں فرقہ واریت کا کوئی تصور موجود نہیں بلکہ ’’کل مسلم اخوّۃ‘‘ کی رو سے تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں، کیونکہ یہ تصور اخوّت ہر طرح کے امتیازات کی نفی کرتا ہے۔ جس سے علاقائی، لسانی، نسلی، گروہی اور عرب و عجم کے تمام تر امتیازات مٹ جاتے ہیں اور یوں اُمت واحدہ کا حقیقی تصور ابھر کر سامنے آ جاتا ہے۔  امت واحدہ کے اس قرآنی تصور اور اسلامی اخوت کے اس تاثر کو زائل کرنے اور مسلمانوں کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کے لیے یہ طاغوتی اور صیہونی قوتیں سرگرم عمل ہیں اپنے ان مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے انہوں نے بعض اسلامی ممالک کو اپنا ہم نوا بنا رکھا ہے ۔ ان استعمار دوست ممالک کے عقائد و نظریات کو ماضی میں برطانوی استعمار کے تھنک ٹینک نے آل سعود کے بعض بڑے مفتیان کے ساتھ مل بیٹھ کر طے کیا تھا تاکہ اسلام کی ایک دوسری شناخت سامنے لائی جائے جو اُن قوتوں کے فائدے میں ھو اور عالم اسلام کے لیے نقصان کا باعث بنے تفریق کی اسی سازش کو بھانپتے ہوئےامام خمینیؒ نے اسلام کو دو ناموں سے تعبیر کیا  تھا ایک اسلام محمدی اور دوسرا اسلام امریکائی، آج اُسی اسلام امریکائی کی وجہ سے امت مسلمہ انتشار کا شکار ہے۔ اسی سازش کو گذشتہ دنوں سعودی مفتی اعظم عبد العزیز آل شیخ نے کھول دیا اور ایرانیوں کو کافر کہہ کر اپنے آقاؤں کی خوشنودی حاصل کر لی اور اُن کی اسلام کے خلاف سرگرمیوں کو تیز کرنے میں اپنا حصہ ڈال دیا جبکہ حقیقت یہ ہے اہل سنت کے حقیقی عقائد میں اس طرح کے کسی فتوے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ گذشتہ ماہ چچنیا میں منعقد ہونے والی اہل سنت کانفرس کہ جس میں مختلف اسلامی ممالک سے 200 سے زائد اہل سنت علماء نے شرکت کی جس میں جامعتہ الازہر کے مفتیان نے بھی شریک ہوئے انہوں نے واضح طور پر وہابیت کو اھل سنت سے خارج قرار دیا مصر، عراق، شام، پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کے علماء نے واضح طور پر کہا کہ طالبان، القاعدہ، داعش، بوکوحرام، النصرہ فرنٹ، فتح الشام اور الشباب جیسی تمام انتہا پسند تنظیموں کا تعلق سعودی عرب کے وہابی نظریات سے ہے اس اجلاس میں مصر کی معروف اسلامی یونیورسٹی کے مفتی طیب بھی موجود تھے، مفتی طیب نے بھی وہابیوں کو اہل سنت سے خارج قرار دیا ۔چنانچہ جب آل سعود نے یہ دیکھا کہ ان کو تو اہل سنت سے ہی خارج قرار دیا جا رہا ہے تو انہوں نے ایک نیا ڈرامہ کیا کہ ایرانی اسلام سے خارج ہیں جس کے جواب میں ایرانی مجتہدین نے مفتی اعظم کے اس فتوے کو چیلنج کیا اور کہا کہ سعودی مفتی اعظم ہم سے بات کریں ہم ثابت کریں گے کہ آل سعود کے تمام اقدامات قرآن و سنت کےمنافی ہیں ۔ ایران کے شہر تہران کے امام جمعہ آیت اللہ موحدی نے اپنے خطبے میں کہا ہے کہ آل سعود امریکہ کے غلام ہیں۔ مسجد اقصیٰ کی طرح مکہ اور مدینہ بھی انہوں نے صیہونیت کے قبضے میں دے دیا ہے۔ آل سعود نے حجاج کی سکیورٹی کے نام سے مسجد الحرام اور بیت اللہ کا انتظام صیہونیوں کے ہاتھ میں دے کر بیت اللہ اور روضہءِ رسول کی توہین کی ہے اور اس سال ایرانی حجاج کا راستہ روک کر خود کافرانہ اور مشرکانہ کام سر انجام دیا ہے۔ چنانچہ اگر ان تمام حقائق کی روشنی میں سعودی مفتی اعظم کے اس حالیہ فتوے کا جائزہ لیا جائے تو سچ اور جھوٹ کھل کر سامنے آ جاتا ہے اور اس کے پس منظر میں موجود سازش بھی بے نقاب ہو جاتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

۷۱ سالہ اسرائیل؛ پہلے سے کہیں زیادہ کمزور

(مجید رحیمی) صہیونی ریاست نے حالیہ دنوں اپنی عمر کے ۷۱ سال مکمل ہونے کا …

ایک تبصرہ

  1. Now how do you see turkey role between Russia and America in Syria