ہفتہ , 19 اکتوبر 2019

شمالی کوریا کا جوہری تجربہ قابل مذمت ہے: پاکستان

602103-northkoreamissile-1473400596-640x330

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان نے شمالی کوریا کی جانب سے کیے جانے والے جوہری تجربے کی مذمت کی اور کہا کہ یہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرار دادوں کی خلاف ورزی اور جوہری ہتھیاروں سے پاک جزیرہ نما کوریا کے مقصد کے منافی ہے۔شمالی کوریا کے سرکاری ٹی وی پر اعلان کیا گیا تھا کہ اس کے جوہری سائنسدانوں نے ملک کے شمال میں واقع نیوکلیئر ٹیسٹ سائٹ پر جوہری تجربہ کیا ہے جس کے بعد عالمی سطح پر اس کی شدید مذمت کی گئی۔پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان کا دیرینہ موقف ہے کہ تمام ممالک اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کریں اور کسی ایسے اقدام سے گریز کریں جس سے خطے کے امن اور استحکام کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو‘۔ذرائع کے مطابق پاکستان نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مطالبہ کیا کہ وہ 60 ممالک کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے فریم ورک کے تحت ’جوہری ہتھیاروں سے پاک جزیرہ نما کوریا‘ کے قیام کی کوشش کریں۔

شمالی کوریا پر نئی پابندیوں کا مطالبہ
شمالی کوریا کی جانب سے نئے ایٹمی تجربے کے بعد عالمی طاقتوں نے اس پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ شروع کردیا۔اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں شمالی کوریا کے حالیہ اقدام پر غور کے لیے ہنگامی اجلاس ہوا جس میں امریکا، برطانیہ اور فرانس نے مطالبہ کیا کہ شمالی کوریا پر مزید پابندیاں عائد کی جائیں۔اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سمانتھا پاور نے صحافیوں کو بتایا کہ ’شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیاروں اور میزائلز کو حتمی شکل دینا چاہتا ہے تاکہ وہ خطے اور پوری دنیا کو ایٹمی حملے کی دھمکی دے کر یرغمال بناسکے‘۔انہوں نے کہا کہ ہم اس اقدام کے بعد شمالی کوریا کے خلاف اضافی کارروائیاں کریں گے جن میں اس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا عمل بھی شامل ہوگا۔روس نے بھی شمالی کوریا کے جوہری تجربے کی مذمت کی، اقوام متحدہ میں روسی سفیر ویتالی چرکن نے کہا کہ سب سے پہلے تو ہمیں اس کی مذمت کرنی چاہیے اور پھر سوچنا چاہیے کہ اب کیا کرنا ہے۔فرانسیسی سفیر برائے اقوام متحدہ فرانکوئی ڈیلاٹرے نے کہا کہ ’کمزوری کوئی آپشن نہیں، شمالی کوریا کو اپنے اشتعال انگیزی اقدامات کے سنگین نتائج بگھتنا ہوں گے‘۔واضح رہے کہ شمالی کوریا اپنے ایٹمی پروگرام می وجہ سے 2006 سے اقوام متحدہ کی پابندیوں کی زد میں ہے تاہم اس کے باوجود وہ گاہے بگاہے ایٹمی تجربات کرتا رہا ہے۔جنوبی کوریا کی صدر پارک گیئون نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا کا یہ پانچواں اور اب تک کا سب سے بڑا ایٹمی دھماکا ہے۔شمالی کوریا کے قریبی ممالک جاپان اور چین کی جانب سے بھی ایٹمی تجربے کی شدید مذمت کی گئی، جاپان نے اسے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ شمالی کوریا کی جوہری پیش رفت جاپان کے لیے سنگین خطرہ بنتی جارہی ہے اور اس سے خطے کے امن و استحکام کو بھی نقصان پہنچا ہے۔چین نے بھی اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیکیورٹی کونسل کی قرار دادوں پر عمل کرے اور ایسی کارروائیوں سے گریز کرے جن سے صورتحال مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہو۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون نے بھی سیکیورٹی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ شمالی کوریا کے خلاف کارروائی کرے اور انہوں نے جوہری تجربے کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔

یہ بھی دیکھیں

اردوغان خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کا ذمہ دار

واشنگٹن: امریکی وزير خارجہ مائیک پمپئو نے ترکی کے صدر اردوغان پر خطے میں عدم …