بدھ , 17 جولائی 2019

سات ذی الحجہ ،امام محمد باقر عليہ السلام کا يوم شہادت

05-00-1884

امام محمّد باقرؑنے اپنے اٹھارہ سالہ دور امامت میں ایک عظیم اوروسیع علمی تحریک کی بنیاد رکھی اوراپنے فرزند ارجمند امام جعفرصادق ؑ کے دورامامت میں ایک عظيم اسلامی یونیورسٹی کے قیام کے اسباب فراہم کئے ۔آپ کا علمی دائرہ انتہائی وسیع تھا اورصرف کلامی اورفقہی علوم تک محدود نہیں تھا۔
پانچويں امام کا اسم گرامي محمد اور لقب باقر ہے ۔ آپ کي عمر انيس سال دس مہينے تھي جب آپ کے سر سے آپ کے پدر بزرگوار کا سايہ اٹھ گيا تھا، اس کے بعد سے امام محمد باقر عليہ السلام نے امامت کي سنگين ذمہ داري ادا کي اورعلوم آل محمد کو عام کرنے ميں بے پناہ جد وجہد کي ۔
امام محمّد باقر ؑ نے اپنے اٹھارہ سالہ دور امامت میں ایک عظیم اوروسیع علمی تحریک کی بنیاد رکھی اوراپنے فرزند ارجمند امام جعفرصادق ؑ کے دورامامت میں ایک عظيم اسلامی یونیورسٹی کے قیام کے اسباب فراہم کئے ۔آپ کا علمی دائرہ انتہائی وسیع تھا اورصرف کلامی اورفقہی علوم تک محدود نہیں تھا
امام محمّد باقر ؑ نے بھی دیگر بزرگان دین اوراولیائے خدا کی مانند اپنےعلم وعمل سے دین اسلام کی بہترین خدمت کی۔
معاشرے میں دینی اقداروتعلیمات کا فروغ ، غلط نظریات پرتنقید اوران کا تجزیہ وتحلیل اورمختلف علمی و دینی میدانوں میں بہترین اورمفید شاگردوں کی تربیت اسلامی معاشرے کے لئے امام محمّد باقر ؑ کی خدمات کا ایک حصہ ہیں ۔
عظیم اہل سنت دانشورابن ہیثم امام محمّد باقر ؑ کے بارے میں کہتے ہیں : اس عظیم امام اور پیشوا کو باقرالعلوم یعنی علوم کو چیرنے والے کا نام دیا گيا ۔ کیونکہ یہ علوم کی پیچیدہ گتھیاں سلجھاتے تھے ۔ان کا علم و عمل انتہائی زيادہ اوررفتار و اخلاق پسندیدہ تھا اورانہوں نے اپنی پوری زندگی اطاعت خدا میں بسرکی تھی ۔
امام محمّد باقر ؑ نے آیات الہی کی تفسیراورقرآن مجید کے معنوی حقائق کی تشریح و وضاحت کے سلسلے میں بہت زیادہ کوششیں کیں ۔اسی بنا پرآیات قرآن کی تشریح کے سلسلے میں بہت زيادہ روایات نقل ہوئی ہیں ۔
آپ فقہ وحدیث اورتفسیرکو بیان کرنے میں دو اہم اصولوں یعنی قرآن اورسنت پر زوردیتے تھے اوراپنے اصحاب سے فرماتے تھے کہ جب بھی میں تمہارے سامنے کوئی حدیث بیان کروں تو جان لوکہ اس حدیث کاسرچشمہ کتاب خدا ہے آپ کی امامت کے ابتدائی برسوں میں معاشرے کے اندرعقلی و کلامی بحثوں کی کوئی جگہ نہیں تھی اوردین کے حقائق کے بارے میں گہراغوروفکراورتدبربدعت سمجھا جاتا تھا ۔ ایسے حالات میں امام محمد باقر ؑ نے اپنے درسوں میں عقلی بحثیں شروع کیں اورلوگوں کو مختلف علوم میں غوروفکراورتدبرکرنے کی دعوت دی ۔آپ حقائق کے ادراک میں عقل کے کردارکو انتہائی اہم سمجھتے تھے اس سلسلے میں آپ نے فرمایا : خدا لوگوں کا ان کی عقل کے حساب سے مؤاخذہ کرے گا ۔
امام محمّد باقر ؑ نے اپنے اٹھارہ سالہ دور امامت میں ایک عظیم اور وسیع علمی تحریک کی بنیاد رکھی اور اپنے فرزند ارجمند امام جعفرصادق ؑ کے دورامامت میں ایک عظيم اسلامی یونیورسٹی کے قیام کے اسباب فراہم کئے ۔آپ کا علمی دائرہ انتہائی وسیع تھا اورصرف کلامی اور فقہی علوم تک محدود نہیں تھا ۔امام محمد باقر ؑ کے ایک ممتازصحابی اور شاگرد جابربن یزید جعفی کہتے ہیں :
میں نوجوانی کے دور میں امام محمّد باقر ؑ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے پوچھا : کہاں سے اورکس کام کے لئے آئے ہو؟ میں نے کہا میں کوفہ کا رہنے والا ہوں اورآپ سے علم حاصل کرنے کےلئے مدینہ آیا ہوں ۔امام علیہ السلام نے خندہ پیشانی سے میرا خیرمقدم کیا اورمجھے ایک کتاب دی ۔ اس طرح میں ان کے شاگردوں میں شامل ہوگیا ۔ تاریخ میں آیا ہے کہ جابربن یزید جعفی کو سترہزارحدیثیں یاد تھیں ۔
امام محمّد باقر ؑ کی زندگي کے خوبصورت ترین لمحے وہ تھے جب وہ اپنے خدا سے راز و نیاز کررہے ہوتے تھے ۔امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں کہ ایک رات میرے والد کافی دیرتک گھر نہ آئے ۔ میں اس پر پریشان ہوگیا اور مسجد کی طرف گیا دیکھا کہ میرے والد امام محمّد باقر ؑ مسجد کے ایک گوشے میں خدا سے راز و نیاز میں مشغول ہیں جبکہ دوسرے لوگ اپنے گھروں کو جاچکے تھے ۔
وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں اپنی پیشانی زمین پر رکھ کر کہہ رہے تھے :
اے پاک و منزہ خدا تو پروردگار حق و حقیقت ہے ۔ خدایا میں نے تیرے سامنے عبودیت بندگی اور فروتنی کی بنا پر سجدہ کیا ہے ۔ خدایا میرے نیک اعمال ناچیز ہیں پس تو میرے ان اعمال میں اضافہ فرما اور قیامت کے دن مجھے اپنے عذاب سے محفوظ رکھ اور مجھے اپنی عفو وبخشش کا حقدار قراردے کیونکہ صرف تو ہی توبہ قبول کرنے اور بخشنے والا اور مہربان ہے ۔
امام محمّد باقر ؑ اپنے جود و سخا اور بخشش میں مشہور تھے ۔ آپ ہمیشہ اپنے اہل خانہ سے کہتے تھے کہ جو ضرورت مند گھر کے دروازے پرآئیں ان کا احترام کریں ۔امام ؑ کے ایک خادم نے روایت کی ہے کہ امام علیہ السلام کے صحابہ اور جاننے والے جب آپ کے پاس آتے تھے تو آپ انہیں اچھا کھانا کھلاتے تھے اور کبھی انہیں اچھا لباس بھی عطا کرتے تھے اور بعض اوقات پیسوں کے ذریعے بھی ان کی مدد کرتے تھے ۔
خادم کہتا ہے کہ ایک دن میں نے امام علیہ السلام سے اس سلسلے میں بات کی اور کہا کہ وہ اپنے اس جود و سخا اور عطا و بخشش کو کچھ کم کردیں کیونکہ مالی حالات کچھ زیادہ اچھے نہیں ہیں ۔ لیکن امام علیہ السلام نے اس کے جواب میں فرمایا :
دنیا میں بھائیوں سے ملاقات ، ان کو چیزیں دینے اور نیکی و بھلائی کرنے سے بڑھ کرکوئی اچھی چیز نہیں ہے ۔
امام محمّد باقرعلیہ السلام ہمیشہ اپنے پیروؤں کو اس بات سے خبردارکرتے تھے کہ کہیں وہ راہ حق کی سختیوں کی بنا پر اس سے دست بردارنہ ہوجائیں ۔آپ فرماتے تھے : حق اورحقیقت کے بیان کی راہ میں استواراورثابت قدم رہئے کیونکہ اگر کسی نے ” مشکلات کی بنا پر” حق کا انکارکیا اوراس سے چشم پوشی کی تو وہ ” باطل راستے میں ” زيادہ مشکلات سے دوچارہوجائے گا۔
امام کی تعبیرکے مطابق جادۂ حق روشن اورسیدھا راستہ ہے ۔اگر انسان اس سیدھے راستے سے ہٹ گیا تو وہ باطل کی بھول بھلیوں میں بھٹک کر بے پناہ مشکلات کا شکار ہوجائے گا ۔
امام محمّد باقر علیہ السلام کی نظر میں دانشور دانائي کے مظہر اور حکمران انتظامی طاقتوں کی حیثیت سے قوموں کے سعادت یا شقاوت کے راستے تک پہنچنے کے اہم عوامل ہیں ۔آپ فرماتے ہیں کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا کہ جب بھی میری امت کے دو گروہ نیک و صالح ہوئے تو میری پوری امت نیک و صالح ہوگی اوراگر یہ دوگروہ برے اور بدعنوان ہوئے تو میری تمام امت کو برائی اور بدعنوانی کی طرف لے جائیں گے ۔ان میں سے ایک گروہ فقہا اور دانشور ہیں اور دوسرا گروہ حکمران اور فرمانروا ہیں ۔
اموی حکمراں لوگوں میں امام محمّد باقر علیہ السلام کی مقبولیت سے ہمیشہ پریشان اورخوفزدہ رہتے تھے ۔امام علیہ السلام کےدور میں کئی اموی حکمران گزرے جن میں سے ہشام بن عبدالملک نے آپ سے سب سے زيادہ سخت رویہ اور سلوک روا رکھا ۔اس کے مقابلے میں امام علیہ السلام نے بھی خاموشی کا راستہ اختیارنہیں کیا اورخوف و وحشت کی فضا کے باوجود حکمرانوں کی برائیوں کو حتیٰ ان کے سامنے بھی آشکارکیا ۔امام محمّد باقرعلیہ السلام ستمگروں اور ظالموں کے ساتھ رویے اور سلوک کے بارے میں فرماتے ہیں۔
اقتداروطاقت کے ہتھیارکو ان کے خلاف استعمال کرنا چاہئے جو لوگوں پر ظلم اور زمین میں سرکشی کرتے ہیں ۔ ان عناصر کے سامنے جان کے ساتھ جہاد کا پختہ عزم رکھنا چاہئے جیسا کہ دل میں بھی ان کے ساتھ بغض و عداوت رکھنی چاہئے ۔
آپ فرماتے ہیں :
جو بھی خدا پر توکل کرے مغلوب نہیں ہوگا اور جس نے بھی گناہ سے خدا کی پناہ مانگی وہ شکست نہیں کھائے گا ۔
ایک اور مقام پر آپ ارشاد فرماتے ہیں ۔
بردباری اور شکیبائي دانا اورعالم شخص کا لباس ہے ۔
امام محمّد باقر علیہ السلام کا ایک اور زریں قول ہے ۔
خدا کی جانب سے نعمتوں کی فراوانی کا سلسلہ نہیں ٹوٹتا ہے مگر یہ کہ بندے شکر کرنا چھوڑدیں-بشکریہ ابنا نیوز

یہ بھی دیکھیں

ایٹمی معاہدے کی حفاظت کے لئے یورپ کے عملی اقدامات کی ضرورت ہے، ایران

ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے ایٹمی معاہدے کے بارے میں …