منگل , 9 مارچ 2021

اسلامی انتہا پسندی کا ابھرنا بہار عرب کے واقعات کا نتیجہ ہے: ماہرین

16

مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے ممالک میں انقلابات کا سلسلہ جسے "بہار عرب” کہا جاتا ہے 5 سال قبل تیونس سے شروع ہوا تھا جس نے بعد میں خطے کے زیادہ تر علاقوں کو اپنی لپیٹ لے لیا۔

انقلاب ہر جگہ ایک ہی طریقے سے گزرا: پہلے مقامی دانشوروں کی طرف سے جمہوریت اور آزادی کے مطالبے کے لئے احتجاج کا آغاز شروع ہوا۔ بعد میں امن احتجاج فسادات اور جھڑپوں میں بدل گیا۔ اس کے بعد مغربی ممالک نے مداخلت شروع کر دی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ موجودہ حکومت "ناجائز” ہے اس لیے اس کی برطرفی ضروری ہے۔ اگر ان کا مطالبہ پورا نہ کیا گیا تو نہوں نے کھلے عام حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے مقامی باغیوں کی مدد کی جیسے کہ لیبیا اور عراق میں ہوا۔ بہار عرب ممالک کو کمزوری اور عدم استحکام کی طرف لے گیا۔

نتیجتا” لوگوں کے لیے ایک بہتر زندگی کے لئے کوئی امید نہیں باقی نہیں رہی، یوں کچھ لوگ نام نہاد اسلامی انتہا پسندی میں گیھر گئے۔ جبکہ دوسرے لوگوں نے اچھی زندگی کے لئے یورپ جانے کا راستہ چنا جس کی وجہ سے یورپ میں بہت بڑا مہاجرین کا بحران ہے، روسی ماہر سیاسیات آندرے کوکتش کا کہنا ہے کہ یہ بحران بھی بہار عرب کا ایک نتیجہ ہے۔

یہ بھی دیکھیں

طالبان کے سیاسی وفد کا دورہ ایران

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ طالبان کا ایک سیاسی وفد …