اتوار , 15 ستمبر 2019

حضرتِ روس کی دوراندیشی

14455728_1770938809850203_1486082380_o

 

تحریر: سیدہ سائرہ بانو
آج کل میں شروع ہونے والی پاک روس فوجی مشقیں پاکستانی خارجہ پالیسی میں ایک چونکا دینے والی تبدیلی دکھائی دے رہی ہے۔ حکومتِ پاکستان جس کی توجہ ابتدا سے ہی امریکہ سے راہ و رسم بڑھانے پر مرکوز رہی اور پھر یورپی ممالک کی طرف بھی اس کا مسلسل جھکاؤ رہا؛ کو شاید یہ بات سمجھ آ چکی ہے کہ پڑوسی اور قریب ترین ممالک سے مضبوط تعلقات استوار کرنا اس کے بہترین مفاد میں ہے۔
یہ بات مسلّم ہے کہ ماضی میں پاکستان کی خارجہ پالیسی پر ایک بڑی ریاستی طاقت مسلسل اثرانداز رہی ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ پاکستانی حکومتوں نے اِس طاقت کے مفادات کو اپنی خارجہ پالیسی میں شامل کیے رکھا۔ جی ہاں یہ اُسی بزرگ شیطان امریکہ کی بات ہو رہی ہے جسے کسی کَل چین نہیں۔ جس نے روزِ اول سے امتِ مسلمہ کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے اور اس کا نشانہ بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کے ممالک رہے ہیں۔ لیکن اب دیکھنے میں آرہا ہے کہ عرب ممالک اس بزرگ شیطان کی شرانگیزیوں کے خلاف کمر بستہ ہیں جنھیں چند اتحادی قوتوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ دو پرانے نظریاتی رفیق (بزرگ شیطان اور آلِ سعود) گذشتہ پانچ سال سےشامی صدر بشارالاسد کی حکومت کا تختہ گرانے کی کوششوں میں ہمہ تن مصروف ہیں اور داعش و النصرہ فرنٹ کو اِسی غرض سے تشکیل دیا گیا ہے۔ اس خطرناک کھیل میں ترکی اور قطر نے بھی اپنا اپنا کردار ادا کیا لیکن کھیل پر امریکہ کی گرفت اُس وقت کمزور پڑ گئی جب شام و عراق کی حکومتوں نے زبردست مزاحمت اختیار کی اور داعشی چوہوں کو اُن کے بِلوں میں واپس جانے پر مجبور کر دیا۔ دو روز قبل عراق کے وزیرِ اعظم حیدر العابدی نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں برملا اعلان کیا ہے کہ آج عراق کی موجودہ صورتحال ایک سال قبل کے حالات سے قدرے مختلف ہے جس وقت میں یہاں کھڑا آپ سب سے مخاطب تھا۔ اِس بات سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا کیونکہ حقیقی معنوں میں شام و عراق کی کمر کو روس کی معاونت نے مضبوط کیا ہے۔ روس نے داعش کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کیا اور ایک سال کے قلیل عرصہ میں اِس فتنہ کو کافی حد تک گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ روس نے اِس معاملے پر ایران کو اعتماد میں لیا جو پہلے سے ہی شام و عراق کی پُشت پر کھڑا تھا۔ سعودی عرب اور ترکی کو روس کی داعش مخالف ممالک سے ہمدردی ایک آنکھ نہ بھائی اور تنقید و بیان بازی کا سلسلہ شروع کردیا۔ پھر پچھلے سال ہی ترک طیارہ مار گرانے پر روس و ترکی کے درمیان رسہ کشی بڑھ گئی لیکن حضرتِ روس نے عین اُس وقت ترکی کی حمایت کا اعلان کر دیا جب امریکہ میں بیٹھے ترک باشندے گولن نے جناب رجب طیب اردگان کے خلاف فوجی بغاوت کروائی۔ اِس بغاوت نے امریکہ کی سیاسی حیثیت کو مشکوک بنا دیا اور ترکی نے باقاعدہ طور پر امریکہ سے گولن کی حوالگی کا مطالبہ کیا۔ چونکہ روس و امریکہ آمنے سامنے کھڑے رہتے ہیں اِس لئے امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی طور پر تنہا کرنے کا اِس سے بہترین موقع کوئی اور نہ تھا۔
دیکھا جائے تو اِس وقت روس بڑی دور اندیشی کے ساتھ مسلم دنیا کے دو اہم ترین ممالک ایران اور ترکی کے ساتھ کھڑا ہے کیونکہ یہ اُس کے بہترین مفاد میں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روس یہ بھی بھانپ چکا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے مابین تعلقات کافی حد تک سرد پڑ چکے ہیں جس کی ایک وجہ شاید پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف خود مختار آپریشن ضربِ عضب کا آغاز تھا۔ اب روس نے پاکستان کی طرف قدم بڑھایا ہے اور روس کو اِس بات کا بخوبی علم ہے کہ ماضی میں پاکستان امریکہ کا اہم ترین اتحادی رہ چکا ہے۔ پاک روس فوجی مشقوں کے آغاز کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کی قیادت نے مزید شعبوں پر باہمی تعاون کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اگر دونوں ممالک نے مثبت پیش قدمی کی تو یہ روس کا ایران ترکی اور پاکستان کے ساتھ ایک اہم ترین اتحاد ہوگا۔ اِس اتحاد سے امریکی و سعودی رفاقت کے لئے مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں اور ممکن ہے کہ انھیں مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی صورتحال پر نظرِ ثانی کرنا پڑے۔ فی الحال روس مشرقِ وسطیٰ میں داعش مخالف ممالک کا ایک مضبوط اتحادی ہے اور اِس اتحاد کے ٹوٹنے کا کوئی خدشہ نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

کس کے ہاتھ پہ لہو تلاش کریں؟

(تنویر قیصر شاہد) اگر کسی مغربی ملک میں یہ سانحہ پیش آتا تو پوری حکومت …

ایک تبصرہ

  1. behtareen article likha hy