جمعہ , 15 نومبر 2019

اردن میں توہین مذہب کےملزم کوقتل کر دیا گیا

612844-writer-1474833928-848-640x480

عمان(مانیٹرنگ ڈیسک) توہین مذہب کے الزام میں گرفتار اردن کےمصنف ناہد حطار کو عدالت کے باہرفائرنگ کرکے قتل کردیاگیا۔تفصیلات کےمطابق ناہد حطار توہین مذہب کے الزام میں عدالت میں پیشی کے لیے جارہے تھے جب ان کو فائرنگ کرکے موت کےگھاٹ اتاردیا گیا۔
عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے ناہد حطار نے فیس بک پر ایک متنازع کارٹون پوسٹ کیا تھا جسے توہین مذہب قرار دے کر گزشتہ ماہ انہیں گرفتار کیاگیا تھا۔
اردنی حکام کا موقف تھا کہ یہ خاکہ شیئر کرکے حطار نے قانون کی خلاف ورزی کی جبکہ مذہبی حلقے بھی اس اقدام کے خلاف غم وغصہ پایا جاتاتھا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پرکارٹون شیئر کرنے پر مصنف ناہد حتار کو سوشل میڈیا پر بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔
واضح رہے کہ 56 سالہ ناہد حطار پر انتہائی قریب سے3 فائر کیے اور تینوں ہی گولیاں ان کے جسم میں لگیں اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ فائرنگ کرنے والے شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ترکی کی داعشی قیدیوں کو رہا کرنے کی دھمکی

انقرہ: ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے ایک بار پھر یورپی ممالک کو داعش …