ہفتہ , 24 اگست 2019

‘آخری دہشتگرد کے خاتمے’ تک جنگ جاری رکھنے کا عزم

18

اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملک کی سیکیورٹی اور اقتصادی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے سرکاری بیان میں کہا گیا کہ ‘وزیراعظم کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں ملک کی مجموعی سیکیورٹی اور اقتصادی صورت حال کا جائزہ لیا گیا’۔

خیال رہے کہ ملک کی سیکیورٹی پر ہونے والے مذکورہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے نہ ہی جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) سے کسی کو دعوت دی گئی تھی اور نہ ہی قومی سلامتی کے مشیر (ر) لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ کو مدعو کیا گیا تھا۔

وزیراعظم کے ایک سینیئر مشیر کے مطابق اجلاس میں متعلقہ امور پر بحث کے لیے صرف مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو مدعو کیا گیا تھا، اسی لیے اسے صرف سول قیادت تک ہی محدود رکھا گیا۔

انھوں نے کہا کہ اس قسم کے اجلاس کے شرکاء کے ناموں کی منظوری خود وزیراعظم نواز شریف دیتے ہیں۔

ناصر جنجوعہ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم کے سینیئر مشیر نے کہا کہ قومی سلامتی کے مشیر وزیراعظم نواز شریف سے مستقل رابطے میں ہیں اور ان کی اجلاس میں غیر موجودگی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

لیکن تجزیہ نگاروں کے مطابق ایک ایسے اجلاس میں قومی سیکیورٹی اداروں کے نمائندوں کی غیر موجودگی پر سوالات اٹھ سکتے ہیں، جو ملک کی سیکیورٹی اور اقتصادی صورت حال پر بحث کے حوالے سے تھا۔

دفاعی تجزیہ نگار امتیاز گل کا خیال ہے کہ قومی سیکیورٹی پر بات چیت کے لیے ہونے والے اجلاس میں قومی سیکیورٹی اداروں کے نمائندوں کی غیر موجودگی شکوک وشبہات پیدا کرتی ہے۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی جانب سے اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہ لینے کے بیان کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) سے جڑے ایک اہم ذرائع کا کہنا تھا کہ دوران اجلاس یہ موضوع بھی ایجنڈے کا حصہ تھا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ موضوع صرف سینیئر اور وفاقی کابینہ کے چند قابل بھروسہ اراکین کے درمیان ہی زیرِ بحث لایا گیا۔

وفاقی کابینہ کے مذکورہ اجلاس پر حکومت کا مؤقف لینے کے لیے متعدد بار وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید سے رابطے کی کوششیں کی گئی تاہم ان کا مؤقف حاصل نہ ہوسکا۔

دیگر شرکاء سے بھی مذکورہ اجلاس کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تاہم اس میں بھی کامیابی ںہیں ملی، ان میں سرتاج عزیز، طارق فاطمی، عرفان صدیقی، ڈاکٹر آصف کریمی اور سینیٹر مشاہد اللہ خان شامل ہیں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف، اسحاق ڈار، چوہدری نثار علی خان، احسن اقبال اور خواجہ سعد رفیق بھی شریک تھے۔

وزیراعظم نواز شریف کو چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر ہونے والے حملے کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔

اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے ایک بار پھر حکومت کے اس عزم کو دہرایا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔

سرکاری بیان میں وزیراعظم کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ‘مادر وطن سے دہشت گردی کے خاتمے کا عزم پاکستان کی ریاست کا مجموعی فیصلہ تھا جس میں حکومت، عسکری قیادت اور عوام شامل تھے’۔

انھوں نے کہا کہ فوجی آپریشن ‘ضرب عضب’ کے باعث دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے اور وہ اس کے جواب میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔

اجلاس کے دوران کراچی آپریشن بھی زیر بحث آیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ آپریشن اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک اسے منطقی انجام تک نہیں پہنچا دیا جاتا۔

وزیراعظم نواز شریف نے اجلاس کے شرکاء کو اپنے حالیہ دورہ سعودی عرب، ایران اور ڈیوس کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کی کوششوں کے باعث بین الاقوامی طور پر پاکستان کا امیج بہتر ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار اور اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کے درمیان ہونے والی ‘لفظوں کی جنگ’ پر بات چیت نہیں ہوئی۔

تاہم ذرائع نے مزید بتایا کہ وزیراعظم نواز شریف نے اپنی کابینہ کے اراکین کو پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کے ساتھ کسی قسم کے تصادم سے گریز کرنے کا مشورہ دیا۔

وزیراعظم نواز شریف نے پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے بھی اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کا اعلان کیا۔

ذرائع کا مطابق وزیراعظم نواز شریف نے پنجاب حکومت کی جانب سے صوبے کے تمام اسکولوں کو بند کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے فیصلوں سے قبل وفاقی حکومت سے مشاورت کرنی چاہیے تھی۔

یہ بھی دیکھیں

نیدر لینڈ میں اسلامو فوبیا:برقعہ پہنی خاتون کو بس سے اتار دیا گیا

نیدرلینڈ(مانیٹرنگ ڈیسک)نیدر لینڈ میں برقعہ پہنی خاتون کو بس سے اتار دیا گیا۔نیدرلینڈ میں برقعہ …