جمعہ , 26 فروری 2021

‘ملیحہ لودھی نے جنرل کیانی کیلئے پیغام رسانی کی’

اقوام متحدہ میں پاکستان کی موجودہ سفیر ملیحہ لودھی بظاہر سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور اوباما انتظامیہ کے درمیان ایک غیر رسمی پیغام رساں کے طور پر کام کرتی رہی ہیں.

اس بات کا انکشاف امریکا کی سابق سیکریٹری آف اسٹیٹ ہلیری کلنٹن کو اُن کے ایک سینیئر ساتھی کی جانب سے موصول ہونے والی ایک ای میل کے ذریعے ہوا.

جمعے کو امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ہلیری کلنٹن کی اُس وقت کی ای میلز کے تقریباً 1 ہزار صفحات جاری کیے، جب وہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی سربراہ کے طور پر کام کر رہی تھیں، لیکن کبھی کبھار انھوں نے رابطے کے لیے نجی ای میل اور پرائیویٹ سرور کا بھی استعمال کیا.

ان ہی ای میلز میں سے ایک، افغانستان اور پاکستان کے خصوصی نمائندے کے دفتر میں اُس وقت کے ایک سینیئر مشیر ولی نصر کی جانب سے بھی بھیجی گئی، جس میں سیکریٹری ہلیری کلنٹن کو اطلاع دی گئی کہ ملیحہ لودھی نے اُن سے جنرل کیانی کا ایک پیغام شیئر کیا ہے.

نصر ولی نے 21 جنوری 2011 کو لکھا، ‘مجھے ملیحہ لودھی کی جانب سے کال موصول ہوئی ہے، جو اُس وقت لندن میں ہیں، انھوں نے مجھے کیانی کا ایک پیغام دیا ہے’.

تاہم قیاس ہے کہ ملیحہ لودھی نے ولی نصر سے جو پیغام شیئر کیا، اسے ایڈٹ کردیا گیا تھا.

واضح رہے کہ ملیحہ لودھی جو امریکا اور برطانیہ میں پاکستان کی سفیر کے عہدے پر بھی کام کرچکی ہیں، اُس وقت کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں تھیں، جب انھوں نے سابق آرمی چیف کا پیغام ولی نصر سے شیئر کیا.

وہ اس وقت پاکستانی اور بین الاقوامی اخبارات کی ایک نامور کالم نگار تھیں جبکہ ولی نصر ایک ممتاز ماہر تعلیم ہیں، جو پاکستان میں بھی قیام کرچکے ہیں اور یہاں ان کے بے شمار دوست ہیں.

ای میل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ولی نصر کا پیغام دو پیراگراف پر مشتمل تھا اور لاہور میں 2 افراد کے قتل کے الزام میں ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری کے محض 3 دن بعد بھیجا گیا. ریمنڈ ڈیوس کے واقعے نے پاک -امریکا تعلقات میں دراڑ ڈال دی تھی.

30 جنوری 2011 کو ہلیری کلنٹن نے “latest from Pakistan on Kayani 3.0“ کے عنوان سے ایک ای میل اپنی ماتحت لورین سی جلوتی کو بھیجی، جس میں ان کا کہنا تھا، ‘برائے مہربانی اس کا پرنٹ نکال دیں’.

جیسا کہ پاکستان سے متعلق زیادہ تر ای میلز کو اچھا خاصا ایڈٹ کیا جاچکا ہے، لیکن سیکریٹری ہلیری کلنٹن اور اُس وقت کی پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے درمیان 3 جولائی 2012 کی ٹیلی فون کال کا پورا متن کوئی بھی حاصل کرسکتا ہے.

ہلیری کلنٹن نے لکھا، ‘میں نے ایک بار پھر گذشتہ برس سلالہ چیک پوسٹ کے المناک واقعے پر گہرے افسوس کااعادہ کیا اور واقعے میں جان کی بازی ہارنے والے پاکستانی فوجیوں کے خاندانوں سے مخلصانہ تعزیت کی ہے’.

یاد رہے کہ 26 نومبر 2011 کو امریکی ہیلی کاپٹروں اور طیاروں نے افغان سرحد کے قریب سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 28 پاکستانی فوجی جان کی بازی ہار گئے تھے، اس واقعے کے بعد پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے اور اسلام آباد نے واشنگٹن سے معافی کا مطالبہ کیا تھا.

اگرچہ واشنگٹن نے اس واقعے پر ایک مذمتی بیان جاری کیا لیکن ای میل میں موجود تفصیلات کو منظرِ عام پرنہیں لایا گیا.

سیکریٹری کلنٹن نے لکھا، ‘وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور میں نے تسلیم کیا ہے کہ ‘غلطی ‘کی وجہ سے پاکستانی فوجیوں کی جانیں ضائع ہوئیں، ہمیں پاکستان فوج کے اس نقصان پر افسوس ہے’.

ان کا مزید کہنا تھا، ‘ہم پاکستان اور افغانستان کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ اس قسم کے واقعات کو دوبارہ ہونے سے روکا جاسکے.’

ہلیری کا کہنا تھا، ‘جیسا کہ میں سابق پاکستانی وزیراعظم کو بتا چکی ہوں کہ سلالہ واقعے کے بعد امریکا پاکستان کی خودمختاری کی عزت کرتا ہے اور باہمی مفادات و عزت کی بنیاد پر مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے مل کر کام کرنے کے لیے کوشاں ہے.’

ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا کہ ٹیلی فون کال میں حنا ربانی کھر نے ‘پاکستان، امریکا اور خطے کی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کی اہمیت پر بھی بات چیت کی’.

انھوں نے’ افغانستان میں سیکیورٹی، استحکام اور بحالی کی ضرورت کی اہمیت پر بھی زور دیا.’

ہلیری کلنٹن نے حنا ربانی کھر کو بتایا کہ امریکا اور پاکستان کو پائیدار اور اسٹریٹجک تعلقات استوار کرنے چاہئیں جس سے نہ صرف دونوں ملکوں بلکہ خطے کی سیکیورٹی اور استحکام کو تقویت ملے.

یہ بھی دیکھیں

فلسطین کی آزادی اور اسرائیل کا خاتمہ، پاکستانی قوم کی خواہش

حماس کے رہنما اسمٰعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کی حمایت …