جمعرات , 4 مارچ 2021

نیشنل ایکشن پلان کے تحت 182 مدارس سیل

نیشنل ایکشن پلان کے تحت قانون نافذ کرنے والے ادارے اب تک پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے 182 مدارس سیل کرچکے ہیں.

ان مدارس کو شدت پسندی کے فروغ اور مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی بنا پر سیل کیا گیا.

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان ‘اے پی پی’ کے مطابق دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان بھی اب تک کالعدم عسکریت پسند تنظیموں کے 126 اکاؤنٹس میں موجود ایک ارب روپے منجمد کرچکا ہے.

قانون نافذ کرنے والی ایجنسیز نے 25 کروڑ 10 لاکھ روپے (251 ملین روپے) کیش بھی برآمد کیا، جسے حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے منتقل کیا جارہا تھا.

اعدادو شمار کے مطابق حکومت، 2004 میں پشاور کے ‘چوک یادگار آپریشن’ میں ملوث ایک مشتبہ شخص سے ایک کروڑ 97 لاکھ 77 ہزار روپے (19.77 ملین روپے) برآمد کرچکی ہے.

حکومت کی جانب سے 8،195 افراد کو فورتھ شیڈول اور 188 کو ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا جاچکا ہے جبکہ 2،052 خطرناک عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کو محدود کیا گیا.

اسی طرح حکومت نے 1،026 کیس درج کرکے 230 مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کیا.

ملک میں 64 کالعم تنظیمیں تھیں، جبکہ 74 کو اقوام متحدہ کی جانب سے غیر قانونی قرار دیا گیا.

دوسری جانب کچھ تنظیموں کی سرگرمیوں کی بھی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے.

نفرت انگیز مواد پر مشتمل 1500 کتابوں اور دیگر مواد کو قبضے میں لے کر 73 دکانوں کو سیل کیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیز نفرت انگیز تقاریر کرنے پر 2،337 کیسز درج کرکے 2،195 افراد کو گرفتار کرچکی ہیں.

یہ بھی دیکھیں

فلسطین کی آزادی اور اسرائیل کا خاتمہ، پاکستانی قوم کی خواہش

حماس کے رہنما اسمٰعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کی حمایت …