بدھ , 3 مارچ 2021

دیسی گھی صحت کے لیے مفید

hqdefault

ہر کوئی جانتا ہے کہ کوئی بھی روایتی پاکستانی کھانے کی ترکیب گھی کے بغیر مکمل نہیں ہوتی ہے۔

گو کہ کچھ سال پہلے تک یہ مانا جاتا تھا کہ گھی کا استعمال کئی بیماریوں کی وجہ بنتا ہے مگر حالیہ کئی تحقیقوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پرانے دیسی گھی جیسی اچھی چکنائی آپ کو تندرست اور توانا رہنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

چاہے آپ اپنی فٹنس کے حوالے پرجوش شخصیت ہوں جو کہ روزانہ ورزش کرتے ہیں یا اپنا وزن کچھ پاؤنڈز کم کرنا چاہتے ہیں، دیسی گھی کی معتدل مقدار میں دونوں چیزوں کا حل موجود ہے۔

دیسی گھی کا طویل المدتی استعمال نہ صرف آپ کے جسم میں موجود چربی کو کم کرتا ہے بلکہ یہ پٹھوں کو بھی مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ہڈیوں اور جوڑوں میں درد کا شکار افراد کے لیے بھی مؤثر ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ دیسی گھی آپ کے جسم میں موجود غیرضروری کولیسٹرول اور چربی (ایل ڈی ایل) جو کو کم کرتا ہے جس سے کھانے کے ہضم ہونے کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ اگر آپ دل کے عارضے میں مبتلا ہیں تو آپ کو یقیناً یہ کہا گیا ہو گا کہ گھی میں تلی ہوئی اور بنی ہوئی غذائیں آپ کے لیے نقصاندہ ہیں لیکن اب دل کے ماہرین نے بھی اس چیز کو تسلیم کر لیا ہے کہ گھی میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز دل کے لیے کافی بہتر ہوتے ہیں۔

مزید یہ کہ گھی میں موجود وٹامن اے نظر سے متعلق بیماریوں کے خلاف مفید ہے جب کہ وٹامن ای جلد کے سیلز کو دوبارہ بننے میں مدد فراہم کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ معمولی جل کے بعد متاثرہ جلد پر گھی لگانے کا پرانا دیستی ٹوٹکا خاصا کارآمد ہوتا ہے۔

یاد ہے کہ گھی کا بہت زیادہ نہیں بلکہ متعدل استعمال فائدہ مند ہے۔

یہ بھی دیکھیں

بیماری میں حتیٰ الامکان دوا سے پرہیز کیجئے!

اسلامی متون میں بکثرت ایسی احادیث اور روایات موجود ہیں جن میں یہ ہدایت کی …