اتوار , 7 مارچ 2021

باچاخان یونیورسٹی حملہ:مرکزی سہولت کارگرفتار

56b17d8c269a7

پشاور: حساس اداروں نے باچا خان یونیورسٹی کے چار سدہ کیمپس میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کے مرکزی سہولت کار کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، اس حملے میں 20 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں طلبہ، اساتذہ اور اسٹاف کے دیگر افراد شامل تھے۔

اہم ذرائع کے مطابق وحید علی عرف ارشد کو گزشتہ ہفتے نوشہرہ سے گرفتار کیا گیا تھا، جسے ‘دہشت گرد اے’ کی درجہ بندی میں شامل کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ‘مرکزی سہولت کار نے افغانستان فرار ہونے کے لیے تمام انتظامات مکمل کررکھے تھے اور تورخم کے مقام سے پاک-افغان سرحد عبور کرنے کے لیے ایک ٹیکسی بھی کرائے پر لے رکھی تھی۔ اگر اس کی گرفتاری میں کچھ دیر ہوجاتی تو وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوجاتا’۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذرائع نے بتایا کہ ‘مذکورہ سہولت کار نے داڑھی شیو کرلی تھی اور سامان پیک کرچکا تھا۔ اس کی ٹیکسی کو راستے میں روکا گیا اور شناخت کی تصدیق کے بعد گرفتار کرلیا گیا’۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ مرکزی سہولت کار وحید، جس کی عمر تقریبآ 30 سال ہے، نے اپنے ابتدائی بیان میں بتایا کہ یونیورسٹی پر حملے کی منصوبہ بندی 6 ماہ قبل افغانستان کے ضلع آچن میں کی گئی تھی، جو دہشت گرد کمانڈر خلیفہ عمر منصور عرف عمر نارے کا بیس کیمپ ہے۔

اس کا کہنا تھا کہ اس نے خفیہ طور پر پنجاب رجمنٹ سینٹر اور مردان پولیس اسٹیشن کی ویڈیوز بنائی تھیں، جو مطلوبہ ٹارگٹ ہوسکتے تھے اور یہ تصاویر عمر نارے کو بھیج دی تھیں تاہم ان دونوں مقامات پر بہتر سیکیورٹی انتظامات کی وجہ سے منصوبے پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

حملے کے ماسٹر مائنڈ اور منصوبہ ساز وحید نے بتایا کہ اس کے بعد مردان میں قائم عبدالولی خان یونیورسٹی کو حملے کے لیے چنا گیا اور اس کے لیے 4 افراد پر مشتمل ایک گروپ کو تیار کیا گیا۔

اس کا کہنا تھا کہ وہ ان افراد میں شامل ہیں، جنھوں نے ان 4 حملہ آوروں کی عمر نارے کے ساتھ ویڈیو بنائی اور اسی وجہ سے ویڈیو میں عبدالولی خان یونیورسٹی کی نشاندہی کی گئی تھی۔

ملزم کا کہنا تھا کہ اسے خلیفہ عمر منصور نے حملے کے لیے ہتھیار اور بارود کی خریداری کی غرض سے 10 لاکھ روپے بھی دیئے تھے۔

یہ بھی دیکھیں

فلسطین کی آزادی اور اسرائیل کا خاتمہ، پاکستانی قوم کی خواہش

حماس کے رہنما اسمٰعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کی حمایت …