جمعرات , 4 مارچ 2021

مولانا عبدالعزیز اشتہاری ہیں: پولیس

اسلام آباد میں قائم لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز کو ایک مقدمہ عدالت نے اشتہاری قرار دے دیا ہے۔ یہ بات بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر ظاہر کی ہے۔

اسلام آباد پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ مولانا عبدالعزیز کوایف آئی آر نمبر F569/14 کےتحت 506 ضمن 2 کے جرم میں اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔ مولانا عبدلعزیز پر جان سے مار دینے کی دھمکی دینے کا الزام ہے، تاہم ان کی گرفتار سے متعلق کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

دوسری طرف چند دن پہلے ہی پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پارلیمان میں ایک بیان میں کہا تھا کہ ’مولانا عبدالعزیز نے جو ماضی میں کیا اس پر سپریم کورٹ نوٹس لے چکی ہے اور اب بھی اگر پولیس انھیں گرفتار کر بھی لے تو وہ کتنی دیر عدالتوں کے پاس رہیں گے؟ ان پر تو کوئی مقدمہ نہیں ہے۔‘

تاہم اسلام آباد پولیس کے مطابق اس مقدمہ میں انھیں اشتہاری قرار دیا گیا ہے اور اس کے مدعی سماجی کارکن سید نعیم اختر بخاری ہیں۔ باوثوق پولیس ذرائع کے مطابق علاقہ آبپارہ کے سول جج نے گذشتہ مہینے مولانا عبدالعزیز کو اشتہاری قرار دیا ہے۔

مولانا عبدالعزیز نے گذشتہ برس پشاور کے آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے میں 144 سے زیادہ بچوں کے قتل عام کو جائز قرار دیا تھا جس کے بعد پاکستانی قوم میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ مولانا نے معافی مانگی تو حکومت نے معاملہ رفع دفع کر دیا۔141223115850_islamabad_protest_624x351_reuters_nocredit

 

اسی سلسلے میں لال مسجد کے باہر ہونے والے مظاہرے کے دوران سماجی کارکنان کو لال مسجد کی انتظامیہ کی جانب سے ایک پریس ریلیز کے ذریعے دھمکایا گیا تھا۔

چند مہینے پہلے پاکستانی خفیہ اداروں کی جانب سے وزرات داخلہ کو بھیجی گئی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ’لال مسجد مافیا کے انتہاپسندوں کے ساتھ تعلقات ہیں اور وہ جڑوں شہروں کی سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔‘

اس کے باوجود حکومت اس مسئلے میں ابہام کا شکار کیوں ہے؟

اس سلسلے میں سماجی کارکن اور وکیل جبران ناصر کہتے ہیں: ’مولانا عبدالعزیز کئی بار حکومت کی رٹ چلینج کر چکے ہیں، انھیں طالبان اپنی مذاکراتی کمیٹی کا رکن نامزد کر چکے ہیں، اس کے بعد بھی چوہدری نثار اگر یہ کہتے ہیں کہ ان سے پوچھ گچھ یا ان کے خلاف تحقیقات یا کسی قسم کے ایکشن کی ضرورت نہیں تو یہ غیر ذمہ دارنہ رویہ ہے۔‘

انھوں نے کہا ’مولانا عبدالعزیز کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے ریاستی عناصر نے ان سارے لوگوں کے ہاتھ مضبوط کر دیے ہیں جن کا ذہن مولانا عبدالعزیز اور ان کے چاہنے والے یہ کہہ کر برین واش کرتے ہیں کہ مولانا حق بات کرتے ہیں، جبکہ وہ پاکستانی جو انتہاپسند سوچ کا جڑ سے خاتمہ چاہتے ہیں انھیں کمزور کر دیا گیا ہے۔

سنہ 2007 میں ہونے والے لال مسجد کے آپریشن سے متعلق تمام مقدمات میں عدالتیں پہلے ہی مولانا عبدالعزیز کو بری کرچکی ہیں۔ تاہم ایک لمبی خاموشی کے بعد مولانا عبدالعزیز شریعت کے نفاذ کے لیے ایک بار پھر سرگرم ہیں۔ حال ہی میں ان کے مدارس کی بعض طالبات نے انتہااپسند تنظیم ’دولت اسلامیہ‘ کو پاکستان آنے کی دعوت بھی دی تھی۔

مولانا عبدالعزیز نے اس پیغام سے لاتعلقی تو ظاہر کی مگر مذمت یا تردید نہیں کی۔ بعض ماہرین کے خیال میں لال مسجد کے خلاف کارروائی کے معاملے حکومت نہ صرفبےبس نظر آتی ہے بلکہ اس مسئلے سے نظریں بھی چراتی ہے۔

 

 

یہ بھی دیکھیں

فلسطین کی آزادی اور اسرائیل کا خاتمہ، پاکستانی قوم کی خواہش

حماس کے رہنما اسمٰعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کی حمایت …