پیر , 1 مارچ 2021

شام میں جنگ کی روش نے دنیا بھر میں دہشت گردی کا خطرہ بڑھا دیا

1393720

یہ حقیقی خطرہ موجود ہے کہ جہادیوں کو دیوار سے لگائے جانے کے بعد دہشت گردانہ واقعات پر مبنی "کلاسیکی” جنگ سے مفر ممکن نہیں رہے گا، نہ صرف شام بلکہ پوری دنیا میں۔

لزاقیہ میں سرکاری فوج کی خاطر خواہ پیش رفت کے بعد زیادہ فعال جنگی کارروائیاں ان محاذوں پر کرنی پڑی ہیں جنہیں پہلے دوسرے درجے کے مقامات خیال کیا جاتا رہا تھا۔ اس قسم کے محاذوں میں دمشق کے نزدیک مشرقی نواحی شہروں میں جہادیوں کے زیرقبضہ علاقے اور صوبہ حمس سب سے پہلے آتے ہیں۔

ان علاقوں پر بہت پہلے سے متنوع حکومت مخالف گروہوں کا قبضہ ہے۔ ان بستیوں اور قصبوں میں اندرونی انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے، لوگوں کی اکثریت وہاں سے فرار ہو چکی ہے۔ گذشتہ برس کے اواخر تک سرکاری فوجیں عملی طور پر وہاں سے جنگجووں کے جتھوں کو کھدیڑنے کا امکان نہ پا سکی تھیں، قطع نظر ان مشکلات کے جو فراہمی کے سلسلے میں جہادیوں کو درپیش تھیں۔ جنگ میں روس کی فضائیہ کی شرکت کے بعد حالات بہتزیادہ تبدیل ہو چکے ہیں۔ دمشق کے نواحی شہروں میں جہادیوں کی مزاحمت کے بنیادی مراکز کو تباہ کر دیا گیا ہے اور جنگجووں کی کچھ ٹکڑیاں وہاں سے دوسرے مقامات پر منتقلی سے متعلق متفق ہو گئیں۔

1712164

جہادیوں کے ساتھ یہی کہانی صوبہ حمس میں بھی دہرائی گئی ہے۔ اس وقت ان کا وہاں کوئی بھی مخصوص ٹھکانہ باقی نہیں رہا ہے۔ یہ دو حصوں میں بنٹ چکے ہیں۔ ان کو تباہ کرنے کے لیے بھی وہی طریقہ اور سرعت کے وہی انداز اختیار کیے گئے جو داعش کے خلاف دمشق کے قریب برتے گئے تھے۔ یہ اور بات ہے کہ صوبہ حمس میں مشرقہ غوطہ کے برخلاف داعش نام کا سلسلہ نہیں ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان سے بات ہو سکتی ہے اگر ہتھیار ڈالنے کی بات نہ بھی ہو تو "سیف پیسیج” دیے جانے کی بات ہو سکتی ہے۔
بتدریج اس تمام معاملے کے سفارتی حل کا خیر مقدم کیا جانا ہوگا۔ مگر جہاں تک مصالحت پر رضامند نہ ہونے والوں کا تعلق ہے جو کھلم کھلا جہادی گروہ ہیں ، اگر ان کی جنگی استعداد کو کمزور کرنے کے اقدامات سست پڑے تو ان کی دہشت گردانہ سرگرمی میں اضافہ ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ داعش کی سربراہی میں ایسے گروہ نہ صرف یہ کہ اس عمل میں حصہ نہیں لیتے بلکہ وہ نامیاتی طور پر مصالحت یا سمجھوتہ کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ یہ ضمانت ہے کہ جب ان کے لیے جنگ کے عام طریقے قابل عمل نہیں رہیں گے تو وہ دہشت گردانہ طریقوں پر عمل کرنے لگیں گے۔ یوں جلد ہی نہ صرف شام بلکہ پوری دنیا میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ سرکاری دستوں کی کامیابیاں اصولی طور پر جوابی کارروائیوں کی وجہ بنیں گی اور عمومی فضا دہشت گردانہ طریقوں کو اپنانے کی رہے گی۔ سرکاری فوج کے دمشق کے نواحی علاقوں اور صوبہ حمس میں حملوں کے جواب میں گذشتہ دنوں چند روز کے وقفوں کے بعد شہر دمشق اور حمس میں دھماکے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے تقریبا” ایک سو افراد نے جان ہاری ہے۔ بڑے پیمانے پر دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کے نطام کو داعش اور اس سے مماثل گروہوں نے کبھی ترک نہیں کیا چنانچہ جہادیوں کے حالات جتنے برے ہوتے جائیں گے ، ہمیں اتنے ہی زیادہ دہشت گردی کے واقعات دیکھنے کو ملیں گے۔

1792072

اس طرح خود کش دہشت گردوں کی طلب بھی یک لخت بہت بڑھ جائے گی۔ داعش پرچار پر زور دے رہی ہے۔ گزشتہ چند مہینوں سے سرکار مخالف گروہوں کے پرچار میں مذہبی رجحان بڑھا ہے، عملی طور پر روزانہ شیعہ مخالف تقاریر جاری کی جا رہی ہیں جن میں ثابت کیا جا رہا ہے کہ شیعہ عالمی سازشی عنصر سے کچھ کم نہیں جو باایمان جہادیوں کے خلاف ایک بے جا لڑائی لڑ رہے ہیں ۔ یہ لامحالہ خلیج کے ملکوں اور سب سے پہلے الریاض کا مقصد ہے جس کی مخالفت صرف تب ہی کی جا سکتی ہے اگر شام کو یکساں اور سالم کثیرالقومی ریاست کے طور پر برقرار رکھا جائے۔

یہ بھی دیکھیں

شہید قاسم سلیمانی کے قتل کا جواب امریکہ کو دینا ہو گا: ایران

مجید تخت روانچی نے ایران اور امریکہ کے مابین قیدیوں کے تبادلے کے سوال پر …