بدھ , 3 مارچ 2021

پی ایس ایل کا میلہ امارات کے صحراؤں میں سجنے کو تیار

پاکستان کی اولین ٹی ٹوئنٹی لیگ پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) کا میلہ کل سے متحدہ عرب امارات کے صحرا میں سجنے جا رہا ہے جہاں اسلام آباد یونائیٹڈ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹر کی ٹیمیں مدمقابل ہوں گی۔

ماضی میں اسپانسرشپ اور سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے دو مرتبہ منسوخ ہونے والی پاکستان سپر لیگ کے انعقاد کا خواب بالآخر پورا ہونے جا رہا ہے۔

لیگ سے ملک میں عالمی کرکٹ سے محروم نوجوان کھلاڑیوں کو انٹرنیشنل کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے اور سیکھنے کا موقع میسر آئے گا بلکہ اس کے ستھ ساتھ مالی مشکلات سے دوچار پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) کو بھی لیگ سے حاصل ہونے والے منافع سے دوبارہ اپنے پیوں پر کھڑے ہونے کا موقع میسر آئے گا۔

عالمی درجہ بندی میں ساتویں نمبر پر موجود پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل سے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی تیاریوں اور ایونٹ کیلئے بہترین کھلاڑیوں کے انتخاب میں مدد ملے گی۔

چار فروری سے شروع ہونے والی پاکستان سپر لیگ کا انعقاد متحدہ عرب امارات کے میدانوں پر ہو گا جو 2009 میں لاہور میں سری لنکن ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد سے پاکستان کا عارضی ہوم گراؤنڈ بنا ہوا ہے۔

4-23 فروری تک جاری رہنے والی لیگ میں 69 مقامی اور 29 غیر ملکی کھلاڑی پانچ ٹیموں کی نمائندگی کریں گے۔

پی سی بی کے حکام نے پانچ فرنچائز ٹیموں کو 93ملین دالر میں دس سال کیلئے فروخت کیا ہے جہاں اینوٹ کی فاتح ٹیم کو ایک ملین ڈالر کی رقم دی جائے گی۔

پاکستانی ٹیم اس وقت ٹی ٹوئنٹی میں اعلیٰ معیار کا کھیل پیش کرنے میں ناکامی سے دوچار ہے جہاں اسے انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شکستوں کا سامنا کرنا پڑا تاہم سابق اور موجودہ کھلاڑیوں کا ماننا ہے کہ پی ایس ایل پاکستان کرکٹ کی بہتری میں مددگار ثابت ہو گا۔

قومی ٹیم کے سابق کپتان اور عظیم فاسٹ باؤلر وسیم اکرم نے کہا کہ پاکستان ٹیم کیلئے ٹی ٹوئنٹی کے دور جدید سے خود کو ہم آہنگ کرنے کیلئے پی ایس مددگار ثابت ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ دیکھیں کہ آج ہندوستان کی کرکٹ کہاں کھڑی ہے اور یہ سب صرف انڈین پریمیئر لیگ کی بدولت ممکن ہو سکا۔

وسیم اکرم نے کہا کہ انٹرنیشنل کھلاڑیوں سے مقابلہ کر کے اور ان کے ساتڈریسنگ روم شیئر کرنے سے تمام ہندوستانی کھلاڑیوں بے انتہا فائدہ ہوا اور مجھے پی ایس ایل سے بھی یہی امید ہے۔

قومی ٹیم کے سابق کپتان شعیب ملک نے تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں دوسروں ٹیموں کے ساتھ مقابلہ کرنے میں جدوجہد کا سامنا ہے لیکن پی ایس ایل اس سلسلے میں مددگار ثابت ہو گا خصوصاً ہماری مستقبل کی نسل کو اس سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا کیونکہ ہر ٹیم کو لازماً چار ابھرتے ہوئے کھلاڑی ٹیم میں رکھنے ہیں لہٰذا یہ پاکستان کرکٹ کے روشن مستقبل کی نوید ثابت ہو گا۔

تاہم دوسری طرف کچھ حلقے لیگ کی کامیابی کے حوالے سے کچھ زیادہ پرامید نہیں اور ان کا ماننا ہے کہ کرکٹ کی بہتری، زیادہ مالی فوائد اور دیگر چیزوں کیلئے لیگ کا ملک میں انعقاد ضروری ہے۔

ناقدین کا مزید ماننا ہے کہ دنیا کی دیگر لیگوں کے مقابلے میں پی ایس ایل میں کھلاڑیوں کی دی جانے والی کم رقم دراصل کرپشن اور میچ فکسنگ کی راہ ہموار کرے گی اور اس سے لیگ کا مستقبل مستقل بنیادوں پر خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان نے نیوزی لینڈ کو آخری ٹی ٹوئنٹی میں شکست دیدی

نیپئر: پاکستان نے تیسرے اور آخری ٹی ٹوئنٹی میچ میں نیوزی لینڈ کو 4 وکٹ …