منگل , 17 اکتوبر 2017

کوئٹہ حملے کے سگے اور سوتیلے شہید

کوئٹہ حملے کے سگے اور سوتیلے شہید

تحریر (عمار مسعود)
کوئٹہ سانحے میں پاکستان آرمی کا ایک کپتان بے جگری سے لڑتے ہوئے شہید ہوا۔ پاکستان آرمی نے اسکو اعزاز دیا، احترام دیا، شجاعت کے تمغے سے نوازا۔ بہت اچھا کیا۔ یہ شہید کا حق اور ادارے کا فرض تھا۔

کوئٹہ سانحے میں پولیس کے اکسٹھ نوجوان شہید ہوئے۔ ان کی لاشوں کو کرائے کی ویگنوں پر ان کے گھروں کو روانہ کر دیا۔ جانے کسی نے ان ویگنوں کا کرایہ بھی دیا ہو گا کہ نہیں۔ کتنی دیر یہ لاشے ویگن کے انتظار میں سڑک کنارے پڑے رہے ہوں گے۔ کب شہید کے سٹاپ کی ویگن آئی ہو گی۔ کس طرح کنڈیکٹر نے چھت پر بیٹھی سواریوں کو بمشکل اتروا کر تابوت کو چھت پر پہنچایا ہوگا۔ شاید ڈبل سواری کے کرائے کا بھی مطالبہ کیا ہوگا۔ پٹرول کی مہنگائی کا رونا بھی ڈرائیور لے کر بیٹھ گیا ہوگا۔ روٹ پر چلنے والی ویگنوں سے طلب کیے جانے والے بھتے کا بھی ذکر شہید کی لاش کے قریب ہی ہوا ہو گا۔

یہ اکسٹھ نوجوان بھی ملک کی خدمت کے لیے آئے تھے۔ اس دھرتی کی حفاظت کے لیے خون کا آخری قطرہ بھی بہا دینا ان کا بھی عزم ہو گا۔ شہادت کو یہ بھی معراج سمجھتے ہوں گے۔ بہادری کی داستان یہ بھی رقم کرنا چاہتے ہوں گے۔ شجاعت کے کسی کارنامے کی متلاشی ان کی حیات بھی ہو گی۔ کسی تمغے کی چاہت ان کے دل میں بھی کسکتی ہو گی۔ وطن کا نام روشن کرنا ان کا بھی عزم ہوگا۔

ہم نے ان اکسٹھ نوجوانوں سے سوتیلا سلوک کیا مگر یہ اپنی ماؤں کے سگے بیٹے ہوں گے۔ ان ماؤں کے بچے جنہوں نے سفر پر جاتے ان کے بازوؤں سے امام ضامن باندھا ہوگا۔ دعاؤں کے سائے تلے انہیں رخصت کیا ہوگا۔ سر پرقران پاک کا سایہ کیا ہوگا۔ بہن بھائی فخر سے سارے محلے میں ان کی بہادری کے قصے سناتے ہوں گے۔ ان کے احباب ان کی قسمت پر رشک کرتے ہوں گے۔

ان شہیدوں کے ساتھ اس بہیمانہ سلوک پر اس قدر رنج ہوا کہ ہمارے پاس اہنے شہیدوں کو احترام دینے کا بجٹ نہیں ہے۔ یہ کون سے ادارے ہیں جو شہدا کے لاشوں کو ویگنوں پر سوار کر کے اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو گئے۔ یہ کون سے محکمے ہیں جو تعزیت کے ایک سے بیانات دے کر اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہو جاتے ہیں۔

مدتوں پہلے لاہور کی سردی میں آدھی رات کے وقت ایک نحیف اور مدقوق پولیس والے سے بات ہوئی جو سردی میں کانپتا ایک ٹوٹی چارپائی کے سہارے آدھی سڑک بلاک کیے ناکہ لگائے کھڑا تھا۔ بندوق کا تکلف بھی اس کے پاس میسر نہں تھا۔ دہشت گردوں کے خلاف اسکے تمام تر حفاظتی اقدامات ایک ٹوٹی چارپائی اور ایک موہوم سی ٹارچ تک محدود تھے۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ اس ٹارچ کے سیل کا خرچہ بھی وہی خود اٹھاتا ہے کیونکہ محکمے کے پاس بجٹ نہیں ہے۔

ایک دوست اپنی کوئی ذاتی ایف آر درج کروانے گئے ۔ محرر نے سب سے پہلے سفید کاغذوں کے دستے اور بال پوائنٹ کا مطالبہ کیا۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ محکمے کے پاس بجٹ نہیں ہے۔

افسوس تو اس بات کا ہے کہ افسروں کے گھروں کی رکھوالی ہو، وی آئی پیز کی پروٹوکول کی ڈیوٹی ہو، سیاستدانوں کی خوشامد درکار ہو تو گاڑیوں میں پٹرول بھی ڈل جاتا ہے، اسلحہ بھی کارآمد دستیاب ہوتا ہے۔ یونیفارم کی نوک پلک بھی درست ہوتی ہے۔ سلیوٹ کرنے کا درست سلیقہ بھی نصیب ہوتا ہے۔

ان سب شہیدوں میں صرف ایک بات مشترک تھی کہ سب کے جسد خاکی کو سبز ہلالی پرچم میں لپیٹ دیا گیا تھا۔ سب کے جسموں پر ایک ہی لبادہ تھا۔ ایک ہی سبز ہلالی لباس تھا۔ ان کا مقصد بھی ایک تھا۔ شاید خواہشیں، امیدیں، امنگیں اور آرزوئیں بھی ایک سی ہوں۔ وطن کی خدمت کی خواہش بھی ایک طرح سے دل میں جگمگاتی ہو گی۔ سبز پرچم میں یہ سب لاشے ایک سے تھے بس ہم نے ان کو سگا یا سوتیلا بنا دیا۔

یہ روٹ پر چلنے والی ویگنوں پر دھرے لاشے بھی ہمارے بیٹے ہیں، اسی زمیں کا خمیر ہے، ہمارا ہی خون ہیں۔ ان کی زندگی کو اگر احترام نہیں دے سکے تو ان کی موت کو احترام ضرور دیں۔ ان کی شہادت کو خراج پیش کریں، ان کے پیش روں کا حوصلہ بڑھائیں۔ ان کو سلام کریں، سلیوٹ پیش کریں۔ انکی قربانی پر ناز کریں۔ سب شہیدوں کا احترام کریں۔

اور اگر اب کوئی شخص کہے کہ ہمارے پاس شہیدوں کو احترام دینے کا بجٹ نہیں تھا تو اس سے التماس ہے کہ ہاتھ میں تھامی بندوق کو کاندھے سے اتار کر کشکول کو تھام لیں۔ خدارا: اب کبھی بہادری، جرات، شجاعت اور احترام کا نام نہ لیں۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان اقوام متحدہ کی ’انسانی حقوق کونسل‘ کا رکن منتخب

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان 2018 سے 2020 تک کے لیے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق ...