بدھ , 22 نومبر 2017

دہشت گرد تنطیمیں اور بلوچستان

10896292_771669212921484_8542319921038962556_o

کیا دہشت گرد تنطیمیں بلوچستان میں متحد ہو رہی ہیں؟

تحریر: وصی بابا

نادرا کے ترجمان نے بیان جاری کیا ہے جس کے مطابق دہشت گردوں سے متعلق ان کو فراہم کردہ معلومات ان کے ریکارڈ سے میچ نہیں کیں۔ اس لئے اب کسی حد تک اعتماد سے کہا جا سکتا ہے کہ دہشت گرد پاکستانی نہیں تھے۔ اس دہشت گرد حملے کے بعد واقعات کی ترتیب بہت اہم ہے۔ سب سے پہلے کالعدم لشکر جھنگوی العالمی نامی دہشت گرد تنظیم کے ترجمان علی بن سفیان نے اس کی ذمہ داری قبول کی۔

العالمی کا تنظیمی نام اصلی نہیں ہے لیکن اس کا بیان قابل غور ہے ۔ العالمی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہمارا داعش سے کوئی براہ راست رابطہ نہیں ہے لیکن اس کارروائی میں ہم نے ان کی مدد کی ہے۔ ہم ہر کسی کی مدد کریں گے جو پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے خلاف مدد چاہے گا اور اس مدد کرنے کے بعد اس کا اعلان بھی کریں گے۔

کالعدم لشکر جھنگوی العالمی نامی اس دہشت گرد تنظیم کے صرف دو لوگوں کا نام اب تک میڈیا پر سامنے آیا ہے۔ ایک اس کے ترجمان اور دوسرے اس کے امیر یوسف خراسانی جن کا اصل نام سید صفدر ہے۔ کالعدم لشکر جھنگوی العالمی ایک کاغذی تنظیم ہے۔ کالعدم دہشت گرد تنظیموں جنود الحفصہ، جنداللہ اور ایشین ٹائیگر کی طرح لشکر جھنگوی العالمی بھی اصل میں کالعدم لشکر جھنگوی کی ہی کاغذی تنظیم ہے۔ کالعدم لشکر جھنگوی اپنی ضرورت کے مطابق ان تنظیموں کا نام اس وقت استعمال کرتا ہے جب وہ خود براہ راست ذمہ داری قبول نہیں کرنا چاہتا۔

ایسا کرنے کی ایک وجہ کم از کم عوامی ردعمل بھی ہے اور اس سے بھی زیادہ ان کے اپنے مکتبہ فکر دیوبند کے علما اور طلبا کے غصے اور سوالات کا سامنا کرنے سے گریز کرنا بھی ہے۔

کوئٹہ پر اسی حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا ایک دعوی حکیم اللہ محسود کے کمانڈر ملا داؤد منصور نے بھی کیا تھا۔ اسی حملے والے دن مستونگ میں ٹارگٹ کلنگ کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے بھی قبول کی۔ دعوے دار کئی تھے لیکن خود کش حملہ آور کی تصاویر نام ویڈیو وغیرہ داعش نے ہی ریلیز کی۔ اپنی ویب سائٹ پر انہوں نے یہ معلومات ظاہر کی ہیں۔

کوئٹہ میں آئی جی ایف سی نے اس کاروائی کے دوران افغانستان سے ٹیلی فون رابطوں کا بتایا اور کالعدم لشکر جھنگوی العالمی کو ہی واقعے کا ذمہ دار قرار دیا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ داعش نے اس وقت پاکستان میں ایک بڑی کارروائی کر دی ہے جب ہمارا سرکاری موقف یہ ہے کہ داعش کو پاکستان قدم نہیں جمانے دیا گیا۔ یہ دعوی اس کارروائی سے پہلے تک کافی حد تک درست ہی معلوم پڑتا تھا۔

اس کیس پر تفتیش کرنے والے کافی تیز رفتاری سے کڑیاں ملا رہے ہیں، جس کے مطابق داعش کے درجن ڈیڑھ خود کش مختلف راستوں سے پچھلے پانچ مہینوں میں داخل ہوئے ہیں۔ ان سب کی تربیت ننگرہار کے ضلع کوٹ میں ہوئی ہے۔ یہ ضلع داعش کے ہی قبضے میں۔ ان خود کش لڑاکوں کو پاکستان میں مختف عسکری تنظیموں نے داخل ہونے کی سہولت فراہم کی۔ یہ سہولت فراہم کرنے والی تنظیموں میں ٹی ٹی پی، احرار الہند، کالعدم لشکر جھنگوی وغیرہ شامل تھیں۔ ان خود کش حملہ آوروں کی منزل بلوچستان ہی تھا۔

اب ذرا بلوچستان کی بات کرتے ہیں۔ بلوچستان میں پہلے سے ہی مسلح شورش کی صورتحال ہے۔ بلوچ قوم پرست ناراض ہیں اور ریاست کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ ان کو کاؤنٹر کرنے کے لئے جن کو کھڑا کیا گیا تھا، ان میں طاقت کا ٹیکہ لگانے کو تب کالعدم لشکر جھنگوی کے ہی مفرور ان کی طرف دھکیلے گئے تھے۔ دو ہزار تیرہ کے الیکشن کے بعد ڈاکٹر مالک کے اصرار پر سرکار کی سرپرستی میں چلنے والی بلوچ ملیشیا کی سرکاری سرپرستی کم کر دی گئی۔

آپریشن ضرب عضب کے بعد زیادہ تر دہشت گرد افغانستان بھاگ گئے لیکن سارے ہی وہاں نہیں گئے تھے۔ جو وہاں نہیں جانا چاہتے تھے وہ بلوچستان پہنچ گئے۔ ان کے بلوچستان پہنچنے کے بعد بھی بلوچستان کسی حد تک نارمل ہی رہا۔ اس نارمل رہنے کی ایک بڑی وجہ افغان طالبان بھی تھے جن کے خاندان اسی صوبے میں رہتے ہیں، دنیا کے بقول ان میں سے بہت سارے خود بھی یہیں رہتے۔

٫ ملا اختر منصور بلوچستان میں مارے گئے تو اس کے بعد طالبان میں بے چینی کی ایک بڑی لہر پیدا ہوئی۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ بھی نکلا کہ بلوچستان کو پرامن رکھنے میں ان کی دلچسپی کم ہوئی۔ اس کا دوسرا نتیجہ اب یہ بھی نکلا ہے کہ طالبان نے پاکستان کے بغیر براہ راست افغان حکومت اور امریکہ سے مذاکرات کئے۔ جس کے بعد کوئٹہ سے ملا نانئی سمیت اہم طالبان کمانڈر گرفتار ہوئے۔

کالعدم لشکر جھنگوی کی ساری بانی قیادت ماری جا چکی ہے۔ جب زندہ تھی تب بھی بلوچستان کا کالعدم لشکر جھنگوی اپنی مرکزی تنظیم کے انتا ڈسپلن میں دکھائی نہیں دیتا تھا۔ اس کے سابق صدر عثمان کرد سمیت کالعدم لشکر جھنگوی بلوچستان کے بھی اہم لوگ مارے جا چکے ہیں۔ کالعدم لشکر جھنگوی اس وقت غصے اور انتقام کی کیفیت میں ہے۔ کالعدم لشکر جھنگوی بلوچستان میں بلوچوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔

ان بلوچوں کا تعلق تو کالعدم لشکر جھنگوی سے ہے لیکن بلوچستان کے حوالے سے ان کے خیالات بھی بلوچ علیحدگی پسندوں والے ہی ہیں۔ کالعدم لشکر جھنگوی سے ہی تعلق رکھنے والے کچھ کمانڈروں کے بلوچ علیحدگی پسندوں کے ساتھ رابطوں اور مل کر کاروائیاں کرنے کے شواہد ہیں۔

ٹی ٹی پی بلوچستان کے امیر عین الزمان اخونزادہ کا انٹرویو اج کل گردش میں ہے۔ ان کے والد بلوچستان میں اوقاف کے صوبائی وزیر رہ چکے ہیں۔ یہ خود بھی سیاسی عمل سے وابسطہ رہے ہیں۔ ان کا انٹرویو سن کر یہی لگتا ہے جیسے کسی بلوچ علیحدگی پسند سے بات ہو رہی ہو۔ کیا کہا بس ویسا ہی سب کچھ جو ناراض بلوچ یا ڈاکٹر اللہ نذر کہتے ہیں۔

یہ بلوچستان کی صورتحال ہے۔ داعش اس وقت عراق اور شام میں پسپا ہو رہی ہے۔ خبروں کے مطابق پاکستان سے داعش کی امداد کے لئے گئے ہوئے سینکڑوں خاندان اب واپسی کے سفر پر ہیں۔ یہ وہ حالات ہیں جن میں کوئٹہ دو ماہ کے عرصے میں ہی دوسری بار ایک بڑی کاروائی کا نشانہ بنا ہے۔ ہزارہ خواتین کو بسوں سے اتار کر گولیاں ماری گئی تھیں۔ یہ صدیوں پرانی بلوچ اور پختون روایات کو چیلنج کرنے والی ایک شرمناک کاروائی تھی۔

شدت پسند تنظیمیں ویسی نہیں ہیں جیسا ان کے بارے مظلومیت کا تاثر کچھ حلقوں میں بنا ہوا ہے۔ وہ بہت سوچ سمجھ کر اپنی پالیسی بناتے ہیں اور ٹارگٹ منتخب کرتے ہیں۔ بلوچستان میں ایسے وقت میں ہر قسم کی شدت پسند تنظیمیں اکٹھی ہو رہی ہیں جب بلوچستان عالمی طاقتوں کی کھینچا تانی کا میدان بنا ہوا ہے۔ اس وقت پاکستان کو ترقی کرنے سے روکنے کے خواہاں ممالک کی پوری توجہ بلوچستان کی طرف مبذول ہے۔ پاکستان اپنی ترقی کے سارے خواب بلوچستان سے جوڑ چکا ہے۔

ریاستی پالیسی پرانی ہے یا نہیں ہمیں کچھ خبر نہیں۔ کوشش کی ہے کہ صرف صورتحال بیان کی جائے نام اور حوالے دینے سے گریز ہی کیا جائے۔ نہ کسی کی دل آزاری مقصود ہے نہ مزاج شاہاں کو چیلنج کرنا مطلوب ہے۔ یہ ایک چیلنج ہے جس سے ہم نے مل جل کر نکلنا ہے۔ مضبوط ہو کر خوشحال ہو کر بھی اور بلوچستان کو مطمئن کر کے بھی۔

صورتحال سمجھیں اپنا اپنا کردار ادا کریں۔

یہ بھی دیکھیں

نااہل شخص کو پارٹی سربراہی سے روکنے کا ترمیمی بل قومی اسمبلی میں مسترد

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلزپارٹی کی جانب سے نااہل شخص کو پارٹی سربراہی سے روکنے کے ...